سعودی عرب اور ایران کے درمیان علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطہ ہوا ہے، جہاں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے خطے کی تازہ صورتحال اور تناؤ میں کمی لانے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ رابطہ سعودی عرب پر حوثی حملوں میں اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔
سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی وزیر خارجہ نے اتوار کو اپنے ایرانی ہم منصب سے گفتگو کی۔ رپورٹ کے مطابق حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں شدت آنے کے بعد دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان یہ پہلا علانیہ رابطہ تھا۔
ایران کے وزیر خارجہ نے اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ تہران سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن مدد دینے کو تیار ہے۔
رپورٹ کے مطابق یمن کے حوثیوں نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سعودی عرب پر متعدد حملے کیے۔ ان میں ہفتے کے روز ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والا حملہ بھی شامل تھا، جس کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔ خبر کے مطابق یہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی عرب میں ہونے والا سب سے مہلک حملہ تھا۔