تازہ ترین

گورنر راج یا ایمرجنسی لگی تو بھرپور مزاحمت کریں گے، بیرسٹر گوہر

0

راولپنڈی: خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال اور گورنر راج کے امکانات کے باعث سیاسی ماحول میں گرما گرمی کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کی جماعت بھرپور مزاحمت کرے گی۔

ڈاہگل ناکہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشت گردی کو بنیاد بنا کر خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی خودمختاری پر کسی قسم کی ضرب قبول نہیں کی جائے گی۔

بیرسٹر گوہر کے مطابق 4 اکتوبر کو اسلام آباد لانگ مارچ کی کال فی الحال برقرار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مشترکہ اپوزیشن کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کی گئی اور انہیں آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی، جس پر پیپلز پارٹی مشاورت کے بعد اپنے فیصلے سے آگاہ کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی کے حالات اور صوبوں سے متعلق معاملات پر غور کیا جائے گا۔ اراکین پارلیمنٹ کی گرفتاریوں کو بھی انہوں نے سنجیدہ معاملہ قرار دیا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا کی صوبائی خودمختاری متاثر ہوئی تو اس کے اثرات دیگر صوبوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق غیر آئینی اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے اور حکومتوں کے بارے میں فیصلے عوامی مینڈیٹ کے مطابق ہونے چاہئیں۔

انہوں نے بتایا کہ 27 ستمبر کو ہونے والے لانگ مارچ کو سیاسی کمیٹی کے متفقہ فیصلے کے تحت 4 اکتوبر تک مؤخر کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ احتجاج کے دوران نہ دھاوا بولا جائے گا اور نہ کسی ادارے پر حملہ کیا جائے گا۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی حمایت حاصل ہے اور جب تک یہ حمایت برقرار ہے، سہیل آفریدی وزیراعلیٰ رہیں گے۔

بیرسٹر گوہر نے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد چاروں صوبوں اور پاکستانی عوام کے دشمن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں کبھی رکاوٹ نہیں ڈالی اور شہداء کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

انہوں نے عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی اور اہل خانہ و وکلا کو رسائی نہ ملنے پر بھی اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کی اجازت ملنے سے کئی معاملات بہتر ہوسکتے ہیں۔

دریں اثنا بیرسٹر گوہر سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنما اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم مقررہ وقت ختم ہونے کے باوجود عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔ ملاقات کے لیے بیرسٹر گوہر، نیاز اللہ نیازی، اویس یونس، خالد یوسف، شمسہ کیانی اور فیصل ملک اڈیالہ جیل پہنچے تھے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.