تازہ ترین

صوبے کا بنیادی مسئلہ پسماندگی نہیں بلکہ غلط بیانیہ ہے: وزیراعلی بلوچستان

0

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے کا بنیادی مسئلہ پسماندگی نہیں بلکہ غلط بیانیہ ہے، اس لیے حقائق اور تصور میں فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بدقسمتی سے موجودہ دور میں بلوچستان کی درست تاریخ بیان نہیں کی جاتی۔ پسماندگی پاکستان کے ہر صوبے میں موجود ہے، تاہم اس بنیاد پر ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے یا ریاست کو ختم کرنے کی بات نہیں کی جاتی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو توڑنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا، جبکہ آئین کا آرٹیکل 5 ریاست سے وفاداری کا تقاضا کرتا ہے۔ نوجوان نسل اور ریاست کے درمیان خلیج کم کرنے کے لیے حکومت ہر سطح پر نوجوانوں کو سن رہی ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سیاسی لوگوں سے مذاکرات کے لیے حکومت ہمہ وقت تیار ہے، تاہم ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کو حقائق اور تاریخی تناظر میں سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ غلط بیانیے کی بنیاد پر صوبے کے حالات کا درست تجزیہ ممکن نہیں۔

وزیراعلیٰ نے بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق سے متعلق تاریخی حقائق کو بھی درست تناظر میں دیکھنے پر زور دیا اور کہا کہ خان آف قلات نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ بلوچستان کا الحاق ان کی رضامندی سے ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے تاریخی حقائق اور اصل ماخذ کا مطالعہ ضروری ہے۔

انہوں نے بیوروکریسی کی جانب سے بلوچستان میں خدمات انجام دینے کے حوالے سے بعض تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب سے بعض بیوروکریٹس بلوچستان آنا پسند نہیں کرتے۔ ان کے بقول جب تک افسران گراؤنڈ پر آکر حالات کا مشاہدہ نہیں کریں گے، انہیں زمینی حقائق کا درست علم کیسے ہوگا۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل اور عوام کی ضروریات کو سمجھنے کے لیے زمینی حقائق سے آگاہی ضروری ہے، جبکہ پالیسی سازی اور انتظامی فیصلوں میں مقامی حالات، عوامی ضروریات اور حقیقی مسائل کو سامنے رکھنا ہوگا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.