کوئٹہ میں 2 لاکھ 4 ہزار بچوں کیلئے انسداد پولیو مہم کا آغاز
کوئٹہ: شہر میں انسداد پولیو مہم کے آغاز کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں، 31 اگست سے شروع ہونے والی مہم کے دوران تقریباً 2 لاکھ 4 ہزار بچوں کو پولیو کے حفاظتی قطرے اور ویکسین پلائی جائے گی، جبکہ مہم کی کامیابی اور پولیو ٹیموں کے تحفظ کیلئے جامع سکیورٹی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت انسداد پولیو مہم کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں پولیو مہم کے لیے تیار کیے گئے جامع پلان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اس مہم کے دوران صرف اسکولوں اور مدارس میں بچوں کو پولیو کے قطرے اور ویکسین پلائی جائے گی، جبکہ مجموعی طور پر تقریباً 2 لاکھ 4 ہزار بچوں کو حفاظتی قطرے اور ویکسین فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے مہم کے دوران مؤثر سکیورٹی پلان یقینی بنانے، پولیو ٹیموں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے اور مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مربوط اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے اسکولوں اور مدارس کی انتظامیہ سے بھی اپیل کی کہ وہ زیر تعلیم بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے کے عمل میں پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ مقررہ ہدف حاصل کیا جاسکے۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے بچوں کو پولیو کے حفاظتی قطرے پلا کر اور ویکسین لگا کر انسداد پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا۔
اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کوئٹہ، پولیو حکام، متعلقہ اہلکاران اور پولیس افسران نے شرکت کی۔
دوسری جانب ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت ہنہ وڑک کے مسائل اور علاقے میں جاری و مجوزہ ترقیاتی کاموں کے حوالے سے بھی اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ہنہ وڑک میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، جاری ترقیاتی منصوبوں اور علاقے کی تعمیر و ترقی سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے دوران ہنہ وڑک میں بڑے ایف سی اسکول کے قیام کے حوالے سے بھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس موقع پر علاقے میں تعلیمی سہولیات کی بہتری اور مقامی آبادی کو بہتر مواقع فراہم کرنے سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں کمانڈنٹ ایف سی غزہ بند اسکاؤٹس، ہنہ وڑک کمیٹی کے ممبران اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے ہنہ وڑک کے مسائل کے حل اور علاقے میں ترقیاتی کاموں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کرنے اور باہمی رابطہ یقینی بنانے کی ہدایت کی۔