پمز ہسپتال میں پیش آنے والے دلخراش سانحے پر قومی اسمبلی میں شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا، جہاں حکومت نے ذمہ داروں کے تعین کے لیے شواہد کی بنیاد پر کارروائی کا یقین دلایا ہے۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ واقعے میں جو بھی ذمہ دار پایا گیا، اسے کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا، جبکہ ایوان نے بھی واقعے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے مطالبے کی حمایت کی۔
قومی اسمبلی کا اجلاس قائم مقام اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں ہوا، جس میں شازیہ مری نے نکتہ اعتراض پر 26 اگست کو پمز ہسپتال میں پیش آنے والے سانحے پر بحث کا مطالبہ کیا۔ ڈپٹی اسپیکر نے اعلان کیا کہ اجلاس میں صرف اس سانحے پر بحث ہوگی، جس کے بعد قومی اسمبلی کا ایجنڈا معطل کردیا گیا اور سانحے میں جاں بحق بچوں کے والدین کے لیے دعا کی گئی۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم نے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے اسی روز دو کمیٹیاں تشکیل دیں۔ ایک کمیٹی سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے جو ابتدائی رپورٹ پیش کرے گی، جبکہ ڈاکٹر اظہر کیانی کی سربراہی میں دوسری کمیٹی سات روز میں اپنی رپورٹ دے گی۔
اعظم نذیر تارڑ نے واقعے کو انتہائی اندوہناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی بیانیے کے بجائے ایسی تجاویز سامنے آنی چاہئیں جن کے ذریعے مستقبل میں اس نوعیت کے حادثات سے بچا جا سکے۔
پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پوری قوم سانحہ پمز پر افسردہ ہے اور مسئلے کے حل کی طرف جانا چاہیے۔ انہوں نے نوزائیدہ بچوں کی ذمہ داری، نرسری میں آگ لگنے کے حالات اور بچوں کی حفاظت کے انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے اور پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔
ڈاکٹر امجد نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈیڑھ سال قبل قائم کی گئی ایک کمیٹی کی تحقیقات کے دوران اسلام آباد کے بنیادی صحت مراکز اور ہسپتالوں کی صورتحال تشویشناک سامنے آئی تھی۔ ان کے مطابق اسلام آباد کے 16 بنیادی صحت یونٹس میں سے بعض میں ڈاکٹرز موجود نہیں تھے اور ہسپتالوں کی رجسٹریشن و انسپیکشن کے نظام پر بھی سوالات موجود ہیں۔
شاہدہ اختر علی نے کہا کہ پمز واقعے میں صرف ایک سیکریٹری نہیں بلکہ قصورواروں کی پوری چین موجود ہے، اس لیے معاملے کی مکمل رپورٹ ایوان میں پیش کی جانی چاہیے اور ایسے واقعات میں سخت سزاؤں کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی صحت کا ہنگامی اجلاس بھی سوموار کو طلب کرلیا گیا ہے، جس میں وفاقی وزیر صحت، سیکریٹری اور پمز انتظامیہ کو طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس ڈاکٹر مہدی کمار ملانی کی زیر صدارت ہوگا۔
اپوزیشن رکن اسد قیصر نے سانحہ پمز پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیر صحت اور وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کیا، جبکہ پمز انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور پارلیمانی کمیٹی بنانے پر بھی زور دیا۔
سانحہ پمز پر قومی اسمبلی میں متفقہ قرارداد بھی منظور کرلی گئی، جس میں واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد پارلیمانی کاکس برائے حقوق اطفال کی جانب سے پیش کی گئی۔
بیرسٹر گوہر نے پمز واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار انکوائری کا مطالبہ کیا، جبکہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 14 بچوں کی اموات کی کوئی وضاحت نہیں دی جا سکتی اور معصوم جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پمز سانحے سے متعلق جو بھی فیصلے ہوں گے وہ شواہد کی بنیاد پر ہوں گے اور وزیراعظم کی جانب سے کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو ذمہ دار ہوگا اسے کسی ایک شخص تک محدود کیے بغیر کارروائی کی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ کمیٹی بنانے کی تجویز بھی دی۔
بعد ازاں وفاقی وزیر قانون کی جانب سے سانحہ پمز پر اسپیشل کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی گئی جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا، جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔