مظفرآباد- آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار بیرسٹر افتخار علی گیلانی کو 30 ووٹ حاصل کرنے کے بعد نیا وزیراعظم منتخب کرلیا، جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار سردار مختار احمد خان نے 14 ووٹ حاصل کیے۔
وزیراعظم کے انتخاب کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی کا اجلاس مظفرآباد میں ہوا، جہاں ارکان نے نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے ووٹ کاسٹ کیے۔ ووٹنگ کے نتیجے میں بیرسٹر افتخار گیلانی نے واضح برتری حاصل کرتے ہوئے وزارتِ عظمیٰ اپنے نام کرلی۔
بیرسٹر افتخار گیلانی کو مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کی جانب سے آزاد کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ کے لیے امیدوار نامزد کیا گیا تھا۔ ان کی نامزدگی کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے اندر اختلافات بھی سامنے آئے تھے۔ پارٹی کے صدر شاہ غلام قادر اور سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے افتخار گیلانی کی نامزدگی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں نے 32،32 ووٹ حاصل کیے تھے، تاہم وزیراعظم کے انتخاب میں بیرسٹر افتخار گیلانی کو 30 ووٹ ملے، یعنی انہیں دو ووٹ کم حاصل ہوئے۔
دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی نے سردار مختار احمد خان کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔ سردار مختار احمد خان حالیہ عام انتخابات میں مظفرآباد سٹی کی نشست سے بیرسٹر افتخار گیلانی کو شکست دے کر اسمبلی پہنچے تھے۔ بعد ازاں افتخار گیلانی ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست کے ذریعے قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنے۔
بیرسٹر افتخار گیلانی اس سے قبل بھی آزاد کشمیر کی سیاست میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ وہ 2011 اور 2016 کے انتخابات میں قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے جبکہ 2016 کی حکومت میں وزیر تعلیم کی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے ہیں۔
وزیراعظم کے انتخاب سے قبل مسلم لیگ (ن) کے اندر اختلافات کے باعث سیاسی صورتحال خاصی اہم ہوگئی تھی۔ شاہ غلام قادر نے واضح طور پر افتخار گیلانی کو ووٹ نہ دینے اور اسمبلی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
اب بیرسٹر افتخار گیلانی کے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد آزاد کشمیر میں نئی حکومت کی تشکیل اور کابینہ کے قیام کا مرحلہ شروع ہوگا، جبکہ نئی حکومت کو حکومتی امور چلانے کے ساتھ ساتھ پارٹی کے اندر موجود اختلافات کو بھی سنبھالنا ہوگا۔