تازہ ترین

پمز سانحہ، خواجہ آصف نے 10 روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا مطالبہ کردیا

0

اسلام آباد-پمز سانحے پر سیاسی دباؤ بڑھنے کے بعد وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے تحقیقات کو فوری اور نتیجہ خیز بنانے پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی انکوائری طویل کارروائی کا شکار نہ ہو بلکہ 10 روز کے اندر مکمل کرکے نتائج قوم کے سامنے لائے جائیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے اپوزیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ بائیکاٹ ختم کرے اور پیر کو ہونے والے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرے، تاکہ پمز سانحے کی مؤثر تحقیقات ممکن بنائی جاسکیں۔

وفاقی وزیر دفاع نے کہا کہ سانحے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کا کوئی نعم البدل نہیں۔ حکومت متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے اور بچوں کے والدین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔

خواجہ آصف نے بیرسٹر گوہر کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کا کردار صرف قانون سازی تک محدود نہیں بلکہ احتساب بھی پارلیمان کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر نے درست نشاندہی کی ہے کہ گل پلازہ سانحے کی تحقیقات کا بھی تاحال کوئی واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ ان کے مطابق پمز واقعے کی تحقیقات میں بھی ایسی صورتحال سے گریز کیا جانا چاہیے اور ذمہ داروں کا تعین کرکے نتائج سامنے لائے جانے چاہئیں۔

قائم مقام اسپیکر نے پمز سانحے کی تحقیقات کے لیے قائمہ کمیٹی صحت کے ارکان کے علاوہ دیگر اراکین کو بھی شامل کرنے کی تجویز دی، تاکہ انکوائری کا دائرہ وسیع کرکے اسے مزید مؤثر بنایا جاسکے۔

خواجہ آصف نے اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی میں 10، 12 یا اس سے زیادہ سینئر ارکان کو شامل کیا جاسکتا ہے، جس سے تحقیقات کو وسیع اور قابلِ اعتماد بنانے میں مدد ملے گی۔

دوسری جانب وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پمز سانحے کو ٹیسٹ کیس قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ واقعے کے ذمہ دار کسی بھی شخص سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ عباسی کمیٹی کی رپورٹ آج رات تک سامنے آنے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق پمز کے معیار اور دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لینے کے لیے اظہر کیانی کی سربراہی میں ایک دوسری کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔

حکومتی اراکین کے مطابق تحقیقاتی عمل کا مقصد واقعے کے اسباب کا تعین، ذمہ داروں کا تعین اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنانا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.