پاکستان کی فضائی دفاعی طاقت میں بڑا اضافہ، چین کا جدید ریڈار نظام حاصل کرلیا
پاکستانی فوج کی جانب سے جاری کی گئی ایک تشہیری ویڈیو میں چین کے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے فضائی دفاعی نظام HQ-17A سے مشابہ ایک نظام دکھائی دینے کے بعد پاکستان اور چین کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون نے ایک بار پھر عالمی توجہ حاصل کرلی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی فوج کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر پیر کو جاری کی گئی دفاعی ویڈیو میں تقریباً 28ویں سیکنڈ پر چھ پہیوں والی ایک فوجی گاڑی دکھائی گئی، جس پر بڑا مستطیل ریڈار نصب تھا۔ پاکستانی فوج نے ویڈیو میں اس نظام کی شناخت ظاہر نہیں کی۔
اوپن نیوکلیئر نیٹ ورک سے وابستہ دفاعی تجزیہ کار تیان رین شو کے مطابق گاڑی کی خصوصیات چین کے HQ-17A فضائی دفاعی نظام سے مشابہ ہیں۔ یہ نظام روسی ساختہ ٹور فضائی دفاعی نظام کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔
اگر پاکستان کی جانب سے اس نظام کی خریداری کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ HQ-17A کی پاکستان کو پہلی معلوم عوامی فروخت ہوگی۔ تاہم پاکستانی فوج، پاک فضائیہ اور چین کی وزارت دفاع کی جانب سے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
چینی مسلح افواج کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ نے بھی پیر کو اس ماڈل کی تصدیق کی۔ رپورٹ کے مطابق چین سے بیرون ملک فروخت کیے گئے بعض دفاعی نظاموں کی ویڈیوز اکثر باضابطہ اعلان سے پہلے سامنے آتی رہی ہیں۔
چینی سرکاری ذرائع ابلاغ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فضائیہ HQ-17AE فضائی دفاعی نظام کی تیسری تصدیق شدہ غیر ملکی خریدار بن گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاک فضائیہ کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ویڈیو میں HQ-17AE میزائل لانچ گاڑی کو سڑک پر چلتے اور اس کے ریڈار کو اہداف تلاش کرتے دکھایا گیا ہے۔
تجزیہ کار کے مطابق HQ-17A کروز میزائلوں، جنگی طیاروں اور دیگر کم بلندی پر پرواز کرنے والے اہداف کے خلاف مؤثر دفاع فراہم کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق اس نظام کو پاکستان کو پہلے سے فراہم کیے گئے چینی کمانڈ اور کنٹرول نظام کے ساتھ بھی مربوط کیا جا سکتا ہے۔
تاہم تجزیہ کار نے واضح کیا کہ جدید اور تیزی سے تبدیل ہونے والے ڈرون خطرات کے خلاف HQ-17 یا اس جیسے نظام کی حقیقی مؤثریت کا عملی میدان میں مزید جائزہ درکار ہوگا۔
HQ-17A چین کی ایرو اسپیس اور دفاعی صنعت کا تیار کردہ نظام ہے جسے پہلی مرتبہ 2019 میں چین کی قومی دن کی فوجی پریڈ کے دوران عوامی سطح پر پیش کیا گیا تھا۔
بین الاقوامی دفاعی اداروں کے اندازوں کے مطابق چینی فوج کے پاس HQ-17 اور HQ-17A کے سیکڑوں نظام موجود ہیں، جبکہ سربیا اور تاجکستان بھی HQ-17AE کے خریداروں میں شامل ہیں۔
پاکستان اور چین کے دفاعی تعاون نے 2025 کی پاک بھارت جنگ کے دوران بھی خاصی عالمی توجہ حاصل کی تھی، جب پاکستان نے چینی ساختہ جے-10 سی جنگی طیارے استعمال کیے تھے۔