گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ روشن، بااختیار اور پائیدار مستقبل کی بنیاد تعلیم پر ہے اور ترقی یافتہ بلوچستان کا خواب حکومت، تعلیمی اداروں، اساتذہ، والدین، سول سوسائٹی اور معاشرے کے تمام طبقات کی مشترکہ کوششوں سے ہی حقیقت بن سکتا ہے۔
گورنر بلوچستان نے اپنے پیغام میں کہا کہ صوبے کی مجموعی شرح خواندگی میں 7 فیصد اضافہ اور 7 لاکھ 68 ہزار بچوں کو دوبارہ اسکولوں میں لانا محکمہ تعلیم بلوچستان کی قابلِ قدر کامیابی ہے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ درست سمت، مؤثر پالیسی اور مسلسل محنت کے ذریعے تعلیمی شعبے میں نمایاں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ موجودہ دور میں خواندگی کا تصور صرف پڑھنے اور لکھنے تک محدود نہیں رہا۔ مصنوعی ذہانت، رقمی ٹیکنالوجی اور روبوٹکس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے دور میں رقمی خواندگی بھی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ بچوں کو روایتی تعلیم کے ساتھ رقمی مہارتوں، سائنسی سوچ، تحقیق، تخلیقی صلاحیت اور مسائل حل کرنے کی قابلیت سے آراستہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ جامع، یکساں اور مستقبل شناس قومی تعلیمی پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے، جو سائنسی حقائق اور موجودہ انسانی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دی جائے۔ ایسی پالیسی پاکستان بالخصوص بلوچستان کے نوجوانوں کو عالمی معیشت اور جدید ٹیکنالوجی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
گورنر نے کہا کہ بلوچستان میں غربت اور بے روزگاری اب بھی تعلیم کے حصول کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں، جس کے باعث بہت سے ذہین اور باصلاحیت طلبہ معاشی مجبوریوں کے تحت تعلیم جاری رکھنے کے بجائے محنت مزدوری پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ان کے مطابق خواندگی محض اعداد و شمار نہیں بلکہ انسان کو اپنے حقوق، صلاحیتوں اور امکانات سے آگاہ کرنے کا ذریعہ ہے۔
جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت بلوچستان کی تعمیر صرف حکومتی کوششوں سے ممکن نہیں بلکہ بین الاقوامی اداروں، تعلیمی تنظیموں، نجی شعبے اور سماجی اداروں کی معاونت بھی ضروری ہے