ایران سے تنازع کے بعد امریکا کا بڑا فیصلہ؟ فوج نکالنے پر غور
ایران کے ساتھ جاری تنازع اور خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کے بعد واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی پر نظرثانی شروع کردی ہے، جس کے تحت مستقل فوجی اڈوں اور اہلکاروں کی تعداد محدود کرنے سمیت دفاعی ذمہ داریاں علاقائی اتحادیوں کو منتقل کرنے کے مختلف منصوبوں پر غور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق امریکی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان خطے میں مستقل طور پر تعینات فوجیوں اور فوجی تنصیبات کی تعداد کم کرنے کے حوالے سے ابتدائی مشاورت جاری ہے، تاہم امریکی انتظامیہ نے تاحال فوجی موجودگی میں کمی کا کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں کیا۔
رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں اس وقت تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں جبکہ خطے میں امریکی بحری اور دیگر اہم فوجی وسائل بھی تعینات ہیں۔ امریکی فوج نے آئندہ سال کے آغاز سے خطے میں اپنی فوجی حکمت عملی اور تعیناتی کے ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلی کے لیے متعدد تجاویز تیار کی ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم کرکے دفاعی ذمہ داریوں کا بڑا حصہ علاقائی اتحادیوں کے سپرد کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بعض امریکی فوجی تنصیبات کو ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے انہیں زیر زمین منتقل کرنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔
ایرانی حملوں کے دوران سعودی عرب، بحرین، قطر اور کویت میں امریکی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات نے واشنگٹن کو موجودہ فوجی حکمت عملی کا دوبارہ جائزہ لینے پر مجبور کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی خفیہ ادارے کی ایک تنصیب کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
امریکی حکام بعض انٹیلی جنس اور خصوصی فوجی کارروائیوں کے لیے مستقل اڈوں کے بجائے عارضی تعیناتی کا طریقہ اختیار کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت مخصوص کارروائیوں کے لیے امریکا سے فوجی اہلکار اور ضروری سامان خطے میں بھیجا جائے گا اور مشن مکمل ہونے کے بعد انہیں واپس بلا لیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن ایران کے حملوں سے تباہ یا شدید متاثر ہونے والی بعض تنصیبات کو دوبارہ تعمیر نہ کرنے کا فیصلہ بھی کرسکتا ہے۔ اس حوالے سے تعمیر نو کے بھاری اخراجات کے ساتھ خطے میں مستقبل کی امریکی فوجی موجودگی کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
تاہم امریکی فوجی حکام کے مطابق مشرق وسطیٰ سے امریکی مستقل فوجی موجودگی مکمل طور پر ختم ہونے کا امکان نہیں۔ پینٹاگون خطے میں بعض بڑے فوجی اڈے برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ ان کی تعمیر نو اور اخراجات میں میزبان ممالک کو شریک کرنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان کسی حتمی سمجھوتے کے امکانات تاحال واضح نہیں اور امریکی فوجی تنصیبات کو ایرانی حملوں کا خطرہ بھی برقرار ہے۔ امریکی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ڈیرل کاڈل نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکی بحری اہلکار فوری طور پر بحرین واپس نہیں جائیں گے، جو طویل عرصے سے امریکی پانچویں بحری بیڑے کا اہم مرکز ہے۔