تازہ ترین

فاٹا انضمام کی مخالفت پر امریکی افسر گھر آیا، فضل الرحمان کا دعویٰ

0

فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان نے ایک نیا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب انہوں نے اس فیصلے کی مخالفت کی تو ایک امریکی افسر بھی ان سے ملاقات کے لیے ان کے گھر آیا اور انضمام کو ضروری قرار دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جس فیصلے کو ایک وقت میں ناگزیر قرار دیا گیا، اگر بعد میں اسے غلط کہا جائے تو اس کے ذمہ دار کون ہوں گے۔

لاہور میں خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کے وقت ان کا مؤقف واضح تھا کہ قبائلی علاقوں کے عوام سے ان کی رائے معلوم کرکے فیصلہ کیا جائے، تاہم ان کے مطابق عوام کی مرضی کے بغیر انضمام کا فیصلہ نافذ کردیا گیا۔

مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ اس وقت جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی ان سے فاٹا انضمام کی مخالفت کی وجہ دریافت کی تھی اور اسے ضروری قرار دیا تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے جنرل باجوہ کے سامنے اپنے تحفظات تفصیل سے بیان کیے، جس کے چند روز بعد ایک امریکی افسر ان کے گھر آیا اور اس نے بھی انضمام کی مخالفت کی وجہ پوچھتے ہوئے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کو ضروری قرار دیا۔

جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ اب انہیں ایک جنرل کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ایک ہی فیصلے کو ایک وقت میں ناگزیر قرار دیا جائے اور بعد میں اسے غلط قرار دیا جائے تو اس فیصلے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ صوبوں کی تشکیل یا تقسیم جیسے اہم فیصلے یک طرفہ طور پر نہیں ہونے چاہئیں بلکہ عوام اور تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ملک کے سیاسی مستقبل سے متعلق فیصلوں کی بنیاد قومی مفاد ہونا چاہیے اور ایسے معاملات پر کھلی بحث کی ضرورت ہے۔

انہوں نے صوبوں کی ممکنہ تقسیم کے حوالے سے معاشی اور آئینی پہلوؤں کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو حاصل معدنی وسائل اور قومی مالیاتی کمیشن کے ذریعے ملنے والے حصے جیسے معاملات بھی اہمیت رکھتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ صوبوں کی تقسیم سمیت قومی نوعیت کے معاملات پر اصولی مؤقف اختیار کریں اور عوام کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلوں میں ان کی رائے کو بنیادی اہمیت دی جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.