اسلام آباد: نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث کے دوران وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ صوبوں کے معاملے پر جب کوئی متفقہ فیصلہ ہوگا تو سب کو اسے تسلیم کرنا ہوگا، جبکہ نئے انتظامی یونٹس کا قیام کسی صوبے کے خلاف نہیں بلکہ وفاق کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اسلام آباد کی اپنی اسمبلی یا صوبائی حکومت ہونا ایک اچھا اقدام ہے۔ ان کے مطابق دنیا کے کئی دارالحکومتوں میں اس نوعیت کا انتظام موجود ہے اور اگر پہلے مرحلے میں اسلام آباد میں اس پر عمل ہوتا ہے تو مستقبل میں دیگر علاقوں میں بھی انتظامی تبدیلیوں کی راہ آسان ہوسکتی ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ نئی دہلی میں بھی الگ حکومت موجود ہے جبکہ افغانستان میں متعدد صوبے ہیں، اس لیے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے معاملے پر سخت رویہ اختیار کرنا مناسب نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ نئے صوبوں کے بجائے ’’نئے انتظامی یونٹس‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنا زیادہ بہتر ہوگا۔ ان کے بقول یہ اقدام کسی صوبے کو کمزور کرنے کے لیے نہیں بلکہ وفاق کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہونا چاہیے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ انہیں مسلم لیگ ن یا وزیراعظم کی جانب سے نئے صوبوں کے حوالے سے کسی پیش رفت کا علم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کا اس معاملے پر اپنا مؤقف اختیار کرنا اس کا حق ہے، تاہم جب کوئی متفقہ فیصلہ سامنے آئے گا تو سب کو اسے ماننا ہوگا۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا اور عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنا عوام کا حق ہے، جبکہ بہتر انتظامی نظام سے شہریوں کو سہولت فراہم کی جاسکتی ہے۔