اسلام آباد: سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے ملک کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2024 کے عام انتخابات میں عوامی مینڈیٹ تبدیل کیے جانے کے باعث سیاسی عدم استحکام اور عوامی بے چینی میں اضافہ ہوا، اب سیاست دانوں کو کمزور کرنے اور دیوار سے لگانے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن چیمبر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ ناصر عباس نے کہا کہ پاکستان اس وقت متعدد سنگین بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ملک میں آئین پر اتفاقِ رائے متاثر ہوا ہے جبکہ آئینی تبدیلیوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی نصف سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جبکہ امن و امان کی صورتحال بھی مسلسل خراب ہو رہی ہے۔
قائد حزبِ اختلاف سینیٹ نے پیکا ایکٹ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو باخبر رکھنے والے میڈیا پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مہذب ممالک میں اس نوعیت کے قوانین موجود نہیں اور شہریوں کو معلومات تک رسائی سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔
راجہ ناصر عباس نے کہا کہ اگر ایک طرف یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ملک کا نظام بحران کا شکار ہے تو دوسری جانب پانچ سالہ حکومتی مدت مکمل کرنے کی بات بھی کی جاتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ سیاسی راستے، جمہوری عمل اور مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں اور کسی غیر جمہوری اقدام کا حصہ نہیں بنیں گے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ ایسے سیاسی اقدامات اور غیر جمہوری رویوں کی حمایت نہیں کرتے۔ ان کے بقول عوام، آئین اور قانون ان کے لیے سب سے مقدم ہیں اور وہ کسی کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانے کی سیاست کے قائل نہیں۔
راجہ ناصر عباس نے زور دیا کہ ملک کے مسائل کا حل اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قوتوں کے درمیان غیر رسمی رابطوں میں نہیں بلکہ سیاسی قیادت کے درمیان بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین سے وفاداری کا حلف اٹھانے والے تمام اداروں اور شخصیات پر اس کی پاسداری لازم ہے۔ آئین کسی طاقتور طبقے کے لیے کھلونا نہیں بلکہ ایک مقدس قومی دستاویز ہے اور اس کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف نے مزید کہا کہ اقتدار اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور کسی فرد یا گروہ کی ذاتی ملکیت نہیں۔ وزرا اپنے آئینی و قانونی فرائض کی ادائیگی کے پابند ہیں جبکہ وزیراعظم بحیثیت چیف ایگزیکٹو ریاستی معاملات پر جواب دہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین ایک جامع اور ترقی پسند دستاویز ہے، تاہم افسوس ہے کہ اس کی شکل بگاڑنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق اپوزیشن آئینی، اخلاقی اور جمہوری حدود میں رہتے ہوئے حکومت پر تنقید کرتی رہے گی اور پارلیمنٹ میں حکومتی اقدامات کے خلاف مؤثر آواز اٹھاتی رہے گی۔