پاکستان میں آج یومِ بحریہ قومی جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاک بحریہ کے شہدا، غازیوں، افسران، جوانوں، اہلکاروں اور ان کے اہلخانہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک بحریہ ملک کی سمندری حدود، قومی مفادات اور بحری تجارت کے تحفظ میں اہم ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ 8 ستمبر 1965 کو پاک بحریہ کی جانب سے بھارتی بحری تنصیب دوارکا کے خلاف تاریخی آپریشن ’سومناتھ‘ اس کی بہادری، عزم اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ مئی 2025 کے معرکۂ حق کے دوران بھی پاک بحریہ نے بھرپور عملی تیاری اور مؤثر کارروائی کے ذریعے پاکستان کے بحری مفادات کا کامیابی سے دفاع کیا۔
صدر مملکت کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے دوران پاک بحریہ نے ’آپریشن محافظ البحر‘ کے تحت ملک کی توانائی اور معاشی ضروریات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا اور سمندری راستوں سے توانائی کی ضروری ترسیل کا سلسلہ برقرار رکھنے میں مدد دی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ یومِ بحریہ 1965 کی جنگ کے دوران پاک بحریہ کی شجاعت، عزم اور ثابت قدمی کی یاد تازہ کرنے والا قابلِ فخر دن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک بحریہ نے آپریشن ’سومناتھ‘ کے ذریعے دشمن کی اہم ساحلی تنصیبات کو نشانہ بنایا جبکہ آبدوز ’غازی‘ کی موجودگی نے دشمن کی نقل و حرکت پر دباؤ بڑھایا۔
وزیراعظم نے کہا کہ مئی 2025 کے معرکۂ حق کے دوران بھی پاک بحریہ نے اعلیٰ سطح کی عملی تیاری کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث عددی برتری رکھنے والا دشمن سمندر میں کسی جارحانہ کارروائی سے باز رہا۔
صدر مملکت اور وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ تزویراتی صورتحال میں پاک بحریہ کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں اور بین الاقوامی بحری گزرگاہوں، تجارتی راستوں اور ملک کی توانائی کی فراہمی کے تحفظ میں اس کا کردار انتہائی اہم ہے۔
دونوں رہنماؤں نے پاک بحریہ کی جدید کاری اور نئی جنگی صلاحیتوں کے حصول کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید جنگی جہازوں، ہانگور کلاس آبدوزوں، فضائی اثاثوں، بغیر پائلٹ نظام اور مقامی طور پر تیار کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی شمولیت پاک بحریہ کو جدید اور مؤثر بحری قوت بنانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
صدر مملکت اور وزیراعظم نے پاک بحریہ کی ’امن‘ مشق اور ’امن ڈائیلاگ‘ کے ذریعے بحری سفارتکاری، عالمی تعاون اور علاقائی شراکت داری کے فروغ کو بھی سراہا۔
دونوں رہنماؤں نے پاک بحریہ کے شہدا، غازیوں، سابق اہلکاروں اور موجودہ افسران و جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک بحریہ اپنی شاندار روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ملکی بحری مفادات اور سمندری حدود کا جرأت، پیشہ ورانہ مہارت اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ دفاع جاری رکھے گی۔