تازہ ترین

محمد عباس کو کیوں ڈراپ کیا گیا؟ بابر اعظم نے وجہ واضح کر دی

0

لاہور: محمد عباس کو ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کی پلیئنگ الیون سے باہر رکھنے کے فیصلے نے شائقین کرکٹ اور ماہرین کو حیران کر دیا۔ پہلے ٹیسٹ میں شاندار بولنگ کے باوجود ان کی عدم شمولیت پر مختلف سوالات اٹھائے جا رہے تھے، تاہم قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے اس فیصلے کی وضاحت کر دی۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان نے اپنی ٹیم میں چار تبدیلیاں کیں، لیکن سب سے زیادہ توجہ تجربہ کار فاسٹ بولر محمد عباس کے ڈراپ ہونے پر مرکوز رہی۔ پہلے ٹیسٹ میں عباس نے مجموعی طور پر 8 وکٹیں حاصل کی تھیں، جن میں ایک اننگز میں پانچ وکٹوں کی بہترین کارکردگی بھی شامل تھی۔

محمد عباس کو ٹیم سے باہر کیے جانے پر سوشل میڈیا اور کرکٹ حلقوں میں قومی ٹیم کی سلیکشن پر تنقید بھی دیکھنے میں آئی۔ کئی سابق کرکٹرز اور شائقین نے سوال اٹھایا کہ بہترین فارم میں موجود بولر کو کیوں باہر بٹھایا گیا۔

میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کپتان بابر اعظم نے کہا کہ محمد عباس مکمل طور پر فٹ ہیں اور انہیں کسی انجری یا فٹنس مسئلے کی وجہ سے نہیں بلکہ پچ کی نوعیت اور ٹیم کمبی نیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے آرام دیا گیا ہے۔

بابر اعظم کے مطابق ٹیم مینجمنٹ نے اسپنرز کے لیے سازگار وکٹ کو دیکھتے ہوئے ایک اضافی اسپنر شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی حکمت عملی کے تحت ساجد خان کو پلیئنگ الیون کا حصہ بنایا گیا، جبکہ نوجوان فاسٹ بولر عبید شاہ کو ٹیسٹ کرکٹ میں ڈیبیو کا موقع دیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2024 میں قومی ٹیم میں واپسی کے بعد محمد عباس پانچ ٹیسٹ میچز میں 28 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔ اس عرصے میں ان کی بولنگ اوسط اور اکانومی ریٹ دیگر پاکستانی فاسٹ بولرز کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر رہی ہے۔

کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے آئندہ دورے میں محمد عباس کا کاؤنٹی کرکٹ کا وسیع تجربہ قومی ٹیم کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے، جہاں کنڈیشنز ان کی بولنگ کے لیے زیادہ سازگار سمجھی جاتی ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.