کراچی: وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری دراصل پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، کیونکہ صحت مند اور توانا آبادی ملکی ترقی، مضبوط انسانی سرمایہ اور معاشی استحکام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
وزیر خزانہ اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نارتھ ناظم آباد کراچی میں سیفی اسپتال کے نئے کارڈیک ونگ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ سیفی اسپتال کا نیا کارڈیک ونگ کراچی کے عوام کو بروقت اور عالمی معیار کی امراض قلب کی طبی سہولیات فراہم کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نئے کارڈیک ونگ میں جدید کیتھیٹرائزیشن لیبز سمیت اعلیٰ معیار کی تشخیصی اور طبی سہولیات دستیاب ہوں گی، جس سے امراض قلب کے مریضوں کو بہتر علاج کی سہولت میسر آئے گی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اسپتال صرف عمارت اور جدید طبی آلات کا نام نہیں بلکہ ڈاکٹروں، نرسوں اور معاون عملے کی مہارت، لگن اور ہمدردی ہی مریضوں کی دیکھ بھال میں حقیقی فرق پیدا کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ معیاری صحت کی سہولیات تک عوام کی رسائی بڑھانے اور سرکاری نظام صحت پر دباؤ کم کرنے میں نجی اداروں کا کردار بھی اہم ہے۔ کمیونٹی اقدامات اور عالمی معیار کی طبی مہارت کا امتزاج پاکستان کے شعبہ صحت کے لیے ایک مؤثر ماڈل ثابت ہوسکتا ہے۔
محمد اورنگزیب نے بوہری برادری کی طویل عرصے سے جاری سماجی خدمات اور عوامی فلاح کے لیے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں صحت کی سہولیات کی بہتری اور معاشرتی بہبود کے لیے برادری کی مسلسل کاوشیں قابل تحسین ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ صحت کو محض سماجی اخراجات کے طور پر نہیں بلکہ پاکستان کے سب سے قیمتی قومی اثاثے یعنی عوام میں سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق صحت مند آبادی زیادہ پیداواری صلاحیت، مضبوط انسانی سرمایہ اور بہتر معاشی لچک کا باعث بنتی ہے۔
وزیر خزانہ نے کارڈیک ونگ کے قیام میں تعاون کرنے والی کمیونٹی، اسپتال انتظامیہ، طبی ماہرین اور دیگر متعلقہ افراد کی خدمات کو بھی سراہا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیفی اسپتال کا نیا کارڈیک ونگ کراچی میں طبی سہولیات کے حوالے سے ایک نمایاں مرکز بنے گا اور ملک بھر کے دیگر اداروں کے لیے بھی ایک مثال قائم کرے گا۔