اسلام آباد: ربیع الاول کی آمد کے حوالے سے پاکستان بھر میں انتظار کی گھڑیاں جاری ہیں، جبکہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی آج نئے اسلامی مہینے کا چاند دیکھنے کے لیے اجلاس منعقد کرے گی۔ حتمی فیصلہ ملک بھر سے موصول ہونے والی معتبر شہادتوں کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوگا، جس میں مرکزی کمیٹی کے ارکان کے علاوہ زونل رویت ہلال کمیٹیوں کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔
اجلاس میں وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، پاکستان محکمہ موسمیات اور سپارکو کے متعلقہ حکام بھی اپنی تکنیکی رپورٹس اور فلکیاتی حسابات پیش کریں گے۔ ماہرین چاند کی پیدائش، عمر اور ممکنہ رویت سے متعلق سائنسی معلومات کمیٹی کے سامنے رکھیں گے۔
ملک کے مختلف شہروں میں زونل اور ضلعی سطح پر رویت ہلال کمیٹیاں بھی فعال رہیں گی۔ ان کمیٹیوں کا مقصد چاند دیکھنے کی موصول ہونے والی شہادتوں کو جمع کرنا اور ان کی تصدیق کے بعد مرکزی رویت ہلال کمیٹی تک پہنچانا ہے۔
فلکیاتی حسابات کے مطابق 13 اگست کو ربیع الاول کا ہلال نظر آنے کے امکانات کم ہیں۔ سپارکو کے مطابق نیا چاند 14 اگست کو نظر آنے کے قابل ہوسکتا ہے۔
اگر 13 اگست کو ربیع الاول کا چاند نظر نہ آیا اور بعد ازاں مقررہ طریقہ کار کے مطابق رویت کی تصدیق ہوئی تو یکم ربیع الاول 1448 ہجری ہفتہ 15 اگست سے شروع ہونے کا امکان ہے۔
اس حساب سے 12 ربیع الاول بدھ 26 اگست 2026 کو متوقع ہے، تاہم اس تاریخ کو حتمی قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ ربیع الاول کے آغاز اور 12 ربیع الاول کی تاریخ کا باضابطہ اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی ہی کرے گی۔
12 ربیع الاول کو مسلمان دنیا بھر میں عید میلاد النبی ﷺ کے طور پر انتہائی عقیدت و احترام سے مناتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اس موقع پر مختلف شہروں میں مذہبی اجتماعات، محافل میلاد، نعت خوانی، قرآن پاک کی تلاوت اور درود و سلام کی محافل کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
اس موقع پر مساجد، گھروں، بازاروں اور اہم شاہراہوں کو بھی خوبصورتی سے سجایا جاتا ہے، جبکہ بعض مقامات پر عوام میں کھانے پینے کی اشیا تقسیم کی جاتی ہیں۔ مسلمان اس دن عبادات اور درود و سلام کے ذریعے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔
علمائے کرام اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ عید میلاد النبی ﷺ کا مقصد صرف ظاہری تقریبات تک محدود نہیں بلکہ نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی سیرت، اخلاق، تعلیمات اور طرزِ زندگی کو سمجھنا اور انہیں عملی زندگی کا حصہ بنانا بھی اس دن کی اہمیت کا بنیادی پہلو ہے۔