تازہ ترین

برکس اجلاس کیلئے نئی دہلی میں عالمی رہنماؤں کی آمد، نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس، مشرق وسطیٰ اور یوکرین پر بات چیت متوقع

0

نئی دہلی: برکس سربراہی اجلاس سے قبل روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نئی دہلی پہنچ گئے، جہاں دو روزہ اجلاس کے دوران عالمی تنازعات، اقتصادی چیلنجز اور بین الاقوامی تجارت سمیت اہم امور پر غور کیا جائے گا۔

برکس اجلاس ہفتے سے نئی دہلی میں شروع ہوگا، جس میں چینی صدر شی جن پنگ کی شرکت بھی متوقع ہے۔ اجلاس ایسے وقت میں ہورہا ہے جب دنیا کو مشرق وسطیٰ اور یوکرین کے تنازعات سمیت متعدد بڑے بحرانوں کا سامنا ہے۔

اجلاس کے ایجنڈے میں مشرق وسطیٰ اور یوکرین کی جنگوں کے علاوہ عالمی تجارت میں رکاوٹیں اور تیل سے متعلق مسائل بھی نمایاں رہنے کا امکان ہے۔ رکن ممالک کے علاقائی تنازعات پر مختلف مؤقف کے باعث برکس کے اندر اتحاد بھی ایک اہم امتحان بن سکتا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات متوقع ہے، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی نئی دہلی پہنچنے کے بعد بھارتی وزیراعظم سے بات چیت کریں گے۔ روس بھارت کا ایک اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہے، جبکہ ایران برکس کو یکطرفہ عالمی پالیسیوں کو چیلنج کرنے کے لیے اہم پلیٹ فارم سمجھتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی صورتحال برکس کے لیے خاص طور پر اہم ہوگی، کیونکہ گروپ میں ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں اور خطے کے تنازع پر ان کے مؤقف مختلف ہیں۔ مئی میں برکس کے وزرائے خارجہ بھی مشترکہ اعلامیے پر اتفاق نہیں کرسکے تھے۔

بھارت ایک جانب ایران اور اسرائیل دونوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے جبکہ دوسری جانب واشنگٹن کے ساتھ اپنے روابط بھی سنبھال رہا ہے۔ توانائی بحران کے دوران نئی دہلی نے روس سے ایندھن کی خریداری بھی بڑھائی ہے۔

دریں اثنا بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے حال ہی میں یوکرین کا دورہ کیا، جسے یوکرین کے معاملے پر بھارت کی سفارتی کوششوں کا حصہ قرار دیا جارہا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.