سندھ اسمبلی صوبے کی تقسیم پر اپنا مؤقف واضح کرچکی: مراد علی شاہ
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملک میں انتظامی یونٹس اور صوبوں کی تقسیم سے متعلق جاری بحث پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو اس وقت اتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم کی ضرورت ہے، لیکن اس کے بجائے تقسیم کی باتیں کی جارہی ہیں، جبکہ اہم قومی معاملات پر فیصلے باہمی مشاورت سے ہونے چاہئیں۔
مزار قائد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ ہر شہری کو اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے، تاہم آج کل ہر شخص خود کو آئینی ماہر سمجھ رہا ہے اور انتظامی یونٹس کے حوالے سے مختلف نئی اصطلاحات زیر بحث لائی جارہی ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کاروباری فورمز اور دیگر پلیٹ فارمز پر ان معاملات پر طویل بحث کی جاسکتی ہے، لیکن جمہوری نظام میں اصل اہمیت عوام کی رائے کی ہوتی ہے اور عوام اپنی رائے منتخب نمائندوں کے ذریعے اسمبلیوں میں پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی صوبے کی تقسیم کے معاملے پر اپنا واضح مؤقف دے چکی ہے۔ اگر کسی دوسرے صوبے کے عوام اپنے صوبے کی تقسیم چاہتے ہیں تو اس معاملے کا فیصلہ بھی متعلقہ صوبائی اسمبلی کے ذریعے ہونا چاہیے۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ قبل ملک کے موجودہ نظام کے تباہ ہونے کی باتیں کی گئیں، تاہم بعد میں وہی لوگ اسی نظام کا حصہ بن کر سرگرم نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے اور دوہرے نظام کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے تسلیم کیا کہ سندھ اور کراچی کو متعدد مسائل کا سامنا ہے اور ان کے حل کے لیے مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق بنیادی سوال یہ ہونا چاہیے کہ حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کررہی ہے یا نہیں، اور اس کا فیصلہ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے کرتے ہیں۔