اسلام آباد میں 27 ستمبر کے مجوزہ پی ٹی آئی احتجاجی مارچ سے قبل پارٹی قیادت کو ایک اور قانونی مشکل کا سامنا ہے، جہاں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سوہیل آفریدی سمیت متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے مارگلہ پولیس اسٹیشن میں درج مقدمہ نمبر 714 سمیت متعلقہ مقدمات میں سوہیل آفریدی، ارکان قومی اسمبلی شاہد خٹک، مولانا نسیم علی شاہ، عامر ڈوگر، عاطف خان، اقبال آفریدی اور رکن صوبائی اسمبلی مینا خان سمیت دیگر رہنماؤں کے وارنٹ جاری کیے۔
مقدمات میں احتجاج، بدامنی اور دیگر الزامات سے متعلق قانونی کارروائی جاری ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاجی مارچ کی تیاری کررہی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق احتجاج کا مقصد آئینی حقوق، قانون کی حکمرانی اور عمران خان کی رہائی سمیت دیگر مطالبات کو اجاگر کرنا ہے۔
گزشتہ ہفتوں کے دوران سوہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنما کارکنوں کو متحرک کرنے میں سرگرم رہے ہیں۔ بعض رہنماؤں نے عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل جانے کی کوشش بھی کی جبکہ جیل کے باہر احتجاجی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا گیا۔
عدالت نے متعدد ملزمان کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے پولیس کو مقدمے کا چالان جمع کرانے کی ہدایت کردی۔ کیس کی مزید کارروائی 30 ستمبر تک ملتوی کردی گئی ہے، جبکہ غیر حاضر ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی بھی زیر غور ہے۔
سوہیل آفریدی اور دیگر رہنماؤں کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق ایک الگ مقدمے میں بھی وارنٹ برقرار ہیں۔ مذکورہ احتجاج کے دوران اسلام آباد میں تشدد اور املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات سامنے آئے تھے۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں شہری وقاص احمد کی جانب سے پی ٹی آئی کے احتجاجی مارچ کے خلاف دائر درخواست بھی زیر سماعت ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ احتجاج سے شہریوں کی معمولاتِ زندگی، ٹریفک اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ سرکاری وسائل کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
پی ٹی آئی کے مجوزہ احتجاج سے قبل عدالتوں میں جاری مقدمات اور قانونی کارروائیوں نے ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھا دی ہے۔