تازہ ترین

آبنائے ہرمز پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے، ایران کچھ نہیں کرسکتا: ٹرمپ

0

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک بار پھر انتہائی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر امریکا کا مکمل کنٹرول ہے اور ایرانی حکومت امریکی بحری ناکہ بندی کے خلاف کوئی مؤثر قدم اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے اور واشنگٹن اس کنٹرول کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق امریکی بحریہ کی ناکہ بندی کو دنیا بھر میں ’’آہنی دیوار‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے خلاف ایران کچھ نہیں کرسکتا۔

امریکی صدر نے ایران کی عسکری صلاحیتوں پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس اب کوئی مؤثر بحریہ اور فضائیہ موجود نہیں۔ ٹرمپ کے بقول ایرانی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور تہران پہلے جیسی طاقت کے ساتھ امریکی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔

ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ پاسداران انقلاب بھی شدید طور پر تباہ ہوچکے ہیں جبکہ ایرانی فوجیوں کو تنخواہوں کی ادائیگی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے ایرانی قیادت کی صورتحال کو انتہائی غیر یقینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران کو اندرونی اور بیرونی دونوں سطحوں پر شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

امریکی صدر کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز پر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے اور یہاں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے اثرات عالمی تیل اور گیس کی قیمتوں اور سمندری تجارت پر پڑ سکتے ہیں۔

ٹرمپ کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں پر امریکی نگرانی برقرار رکھنا ہے۔ تاہم دوسری جانب ایران آبنائے پر اپنے حقِ اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے پر زور دیتا رہا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ خطے میں موجود کشیدگی نے عالمی شپنگ اور توانائی کی مارکیٹ کو بھی متاثر کیا ہے۔ بعض رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جنگ سے قبل اس راستے سے دنیا کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا۔

دوسری جانب آبنائے ہرمز کو دوبارہ معمول کی بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے کھولنے کے حوالے سے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بھی جاری رہنے کی اطلاعات ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان شرائط اور کنٹرول کے معاملے پر اختلافات برقرار ہیں۔

ٹرمپ کے حالیہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران پر دباؤ کم کرنے کے بجائے اپنی عسکری اور معاشی پوزیشن کو مذاکرات میں اہم leverage کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کا معاملہ اب امریکا ایران تنازع کے سب سے اہم اور حساس نکات میں شامل ہوچکا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.