تازہ ترین

چین میں بڑی سطح پر برطرفیاں، شی جن پنگ کے سابق سیکرٹری سمیت 33 عہدیدار پارٹی سے نکال دیے گئے

0

بیجنگ: چین کی کمیونسٹ پارٹی نے فوجی اور حکومتی حلقوں میں بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے 33 اعلیٰ عہدیداروں کو پارٹی سے نکال دیا ہے، جن میں صدر شی جن پنگ کے سابق سیکرٹری ژونگ شاؤ جون اور مرکزی ملٹری کمیٹی کے سابق وائس چیئرمین ژانگ یو شیا بھی شامل ہیں۔

پارٹی کے 20 ویں مرکزی کمیٹی کے پانچویں اجلاس میں ان برطرفیوں کی منظوری دی گئی۔ برطرف کیے گئے عہدیداروں میں 17 کا تعلق پارٹی اور حکومت جبکہ 16 کا تعلق فوج سے ہے۔ یہ تعداد گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے اجلاس کے دوران کی گئی 14 برطرفیوں سے دگنی سے بھی زیادہ ہے۔

اس کارروائی میں ژونگ شاؤ جون کی برطرفی کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے 2002 کے اواخر میں شی جن پنگ کے صوبہ ژجیانگ میں پارٹی سربراہ بننے کے بعد ان کے سیکرٹری کے طور پر کام شروع کیا تھا اور شنگھائی و بیجنگ میں بھی ان کے ساتھ رہے۔ 2013 میں وہ فوج میں منتقل ہوگئے اور مرکزی ملٹری کمیٹی کے جنرل آفس کے سربراہ مقرر ہوئے۔ چینی حکام کے مطابق ان کے خلاف سنگین تادیبی اور قانونی خلاف ورزیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔

برطرف کیے جانے والے فوجی عہدیداروں میں مرکزی ملٹری کمیٹی کے سابق وائس چیئرمین ژانگ یو شیا، جوائنٹ اسٹاف ڈیپارٹمنٹ کے سابق سربراہ لیو ژین لی، پولیٹیکل اینڈ لیگل افیئرز کمیشن کے سابق سیکرٹری وانگ رین ہوا، ایسٹرن تھیٹر کمانڈ کے سابق پولیٹیکل کمشنر لیو چنگ سونگ، ناردرن تھیٹر کمانڈ کے سابق کمانڈر ہوانگ منگ اور پیپلز لبریشن آرمی کے سابق کمانڈر لی چیاؤمنگ شامل ہیں۔

پارٹی اور حکومتی عہدیداروں میں سابق وزیر خارجہ کے ممکنہ امیدوار سمجھے جانے والے لیو جیان چاؤ، سنکیانگ کے سابق پارٹی سربراہ ما سنگ روئی، گوانگسی کے سابق چیئرمین لان تیان لی، اندرونی منگولیا کی سابق چیئرپرسن وانگ لی شیا، صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سابق وزیر جن ژوانگ لونگ اور چائنا سیکیورٹیز ریگولیٹری کمیشن کے سابق چیئرمین ای ہوئی مان بھی شامل ہیں۔

اجلاس میں مرکزی کمیٹی کے 10 متبادل ارکان کو مکمل رکنیت دی گئی، تاہم اس عمل میں سینئر ترین پانچ متبادل ارکان کو نظر انداز کردیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد ان عہدیداروں کے سیاسی اعتماد اور جانچ پڑتال سے متعلق امور پر قیاس آرائیاں سامنے آئی ہیں۔

دوسری جانب ژانگ شینگ من کو کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹ بیورو میں شامل کرلیا گیا ہے۔ وہ اس سے قبل مرکزی ملٹری کمیٹی کے ڈسپلن انسپکشن کمیشن کے سیکرٹری اور وائس چیئرمین کے عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق اجلاس میں مرکزی کمیٹی کے 162 مکمل اور 117 متبادل ارکان سمیت مجموعی طور پر 279 افراد نے شرکت کی، جو 2022 میں منتخب ہونے والے 376 ارکان کا 74.2 فیصد ہے۔ یہ حاضری ماؤ زی تنگ کے دور کے بعد کسی مرکزی کمیٹی اجلاس کی کم ترین سطح قرار دی گئی ہے۔

اجلاس میں پارٹی کے اندر سخت خود احتسابی سے متعلق قرارداد بھی منظور کی گئی، جس میں مرکزی قیادت کو مضبوط بنانے اور عہدیداروں کی تربیت، تقرری، نگرانی اور انتظامی امور پر مزید سختی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ قرارداد میں شی جن پنگ کے سیاسی نظریات کے مطالعے اور ان پر عمل درآمد کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.