کراچی: شہر قائد میں عالمی ثقافتی سرگرمیوں کا بڑا میلہ سج گیا، آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام ورلڈ کلچر فیسٹیول 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا آغاز ہوگیا ہے، جس میں 150 ممالک کے فنکار شرکت کریں گے۔ 25 روز تک جاری رہنے والے اس فیسٹیول میں موسیقی، فلم، تھیٹر اور فنونِ لطیفہ کے مختلف شعبوں کو پیش کیا جائے گا۔
آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے صدر احمد شاہ نے فیسٹیول کے تعارفی پروگرام کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس میلے کا بنیادی مقصد فن اور ثقافت کے ذریعے مختلف ممالک اور قوموں کو قریب لانا ہے۔ امریکا، روس، ایران اور فلسطین سمیت دنیا کے متعدد ممالک کے فنکار اس میں شریک ہوں گے۔
احمد شاہ نے بتایا کہ رواں سال فیسٹیول کے بین الاقوامی شراکت داروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال تقریباً چھ بین الاقوامی ادارے آرٹس کونسل کے ساتھ تعاون کر رہے تھے، تاہم اس مرتبہ یہ تعداد بڑھ کر 72 ہوگئی ہے۔ ان اداروں میں گوئٹے انسٹی ٹیوٹ اور الائنس فرانسیز سمیت دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فیسٹیول میں گریمی ایوارڈ یافتہ موسیقاروں اور آسکر کے لیے نامزد فنکاروں کی شرکت بھی متوقع ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر سے منتخب کی گئی 80 سے زائد فلمیں نمائش کے لیے پیش کی جائیں گی۔ یہ فلمیں مجموعی طور پر چھ ہزار فلموں میں سے منتخب کی گئی ہیں۔
احمد شاہ نے کہا کہ عالمی سطح پر تنازعات اور کشیدگی کے باوجود فن اور ثقافت مختلف معاشروں کو قریب لانے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ اسی مقصد کے تحت مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے فنکاروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ فیسٹیول کے دوران فنونِ لطیفہ کے مستقبل اور تخلیقی سرگرمیوں پر جدید ٹیکنالوجی کے اثرات سمیت مختلف موضوعات پر پینل مباحثے بھی منعقد ہوں گے۔
صدر آرٹس کونسل کے مطابق عالمی امن کا فروغ بھی اس ثقافتی میلے کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔ انہوں نے فیسٹیول کے انعقاد میں معاونت کرنے والی نوجوان ٹیم کی خدمات کو سراہا اور بتایا کہ 22 سرکاری محکمے بھی انتظامات میں تعاون کر رہے ہیں۔
گزشتہ سال کے فیسٹیول کا حوالہ دیتے ہوئے احمد شاہ نے کہا کہ 2025 میں یہ میلہ 39 روز تک جاری رہا تھا، جس میں 140 ممالک نے شرکت کی تھی۔ رواں سال شریک ممالک کی تعداد بڑھا کر 150 کردی گئی ہے، تاہم فیسٹیول کا دورانیہ 25 روز رکھا گیا ہے اور اس مرتبہ شرکا کے انتخاب میں معیار کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔
اس موقع پر صوبائی وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ نے بیرون ملک سے کراچی آنے والے فنکاروں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ فن کی کوئی زبان یا سرحد نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں دنیا کی حکومتوں میں سے کسی ایک کا اختیار ملے تو وہ ویزا نظام ختم کرکے فنکاروں کو دنیا بھر میں آزادانہ سفر کی اجازت دے دیں۔