ملتان میں مفتی محمود کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکمرانوں کے پاس فیصلے کرنے کی حقیقی طاقت نہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت غیر جمہوری اقدامات کے خلاف سیاسی مزاحمت جاری رکھے گی۔
قلعہ کہنہ قاسم باغ میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مفتی محمود نے اپنی زندگی کا نصف حصہ ملتان میں گزارا۔ ان کے مطابق اکابرین نے پاکستان کے قیام کے مقاصد کو فراموش نہیں کیا اور امن، سیاست، جمہوریت اور پارلیمان کا راستہ اختیار کیا۔
جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ طاقتور طبقوں نے مختلف ادوار میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا اور صوبوں کے حقوق متاثر کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ غربت اور مہنگائی نے عوام کی زندگی مشکل بنا دی ہے اور معاشی حالات سے پریشان لوگ شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
اسلامی نظریاتی کونسل کا ذکر کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس ادارے میں آئین، قانون اور شریعت کے ماہرین کو شامل کیا گیا تھا۔ انہوں نے ملکی سیاست میں توازن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ قیام پاکستان کے تقریباً 80 سال بعد بھی ملک معاشی خوشحالی اور حقیقی آزادی کی منزل کیوں حاصل نہیں کرسکا۔
انہوں نے کہا کہ آئین میں چاروں صوبوں کی خودمختاری اور اختیارات کا تعین کیا گیا ہے، تاہم مختلف ادوار میں صوبائی حقوق متاثر ہوئے۔ پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی دعوے دار جماعت کے بعض ماضی کے اقدامات بھی جمہوری اصولوں کے حوالے سے سوالات پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کی اکثریت کو تسلیم نہ کیے جانے اور مختلف صوبوں میں گورنر راج کے نفاذ کا حوالہ بھی دیا۔
خیبرپختونخوا کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے اقدامات پر تنقید کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بلوچستان میں حالات زیادہ خراب ہیں تو وہاں گورنر راج کیوں نافذ نہیں کیا گیا؟ انہوں نے صوبے میں برسر اقتدار جماعت اور وزیراعلیٰ کی سیاسی وابستگی پر بھی سوالات اٹھائے۔
مولانا فضل الرحمان نے الزام عائد کیا کہ ایمرجنسی کے ذریعے وفاق نے صوبے کے دائرہ اختیار میں آنے والے معدنی ذخائر پر کنٹرول حاصل کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت ایسے اقدامات کے خلاف سیاسی مزاحمت کرے گی۔
جے یو آئی سربراہ نے اعلان کیا کہ 26 نومبر کو سرگودھا میں بڑا عوامی اجتماع منعقد کیا جائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف سے ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم سے پوچھا تھا کہ کیا لانگ مارچ کو طاقت کے ذریعے روکا جائے گا اور کیا 200 شرکا کی جانیں لے کر مارچ ختم کرایا جائے گا؟ ان کے مطابق حکمران ان سے بات چیت کے لیے دو گھنٹے انتظار کرنے پر بھی آمادہ نہیں ہوئے۔
افغانستان اور پاکستان کی معیشت کا موازنہ کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ کئی دہائیوں کی جنگوں کے باوجود افغانستان میں ایک امریکی ڈالر تقریباً 70 افغانی کے برابر ہے، جبکہ پاکستان میں ڈالر کی قیمت 270 روپے ہے۔ یہ اعداد و شمار ان کے خطاب سے منسوب ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی اور غربت نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے، جبکہ حکمران آسائشوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو عوامی مشکلات کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔