تازہ ترین

مکہ مکرمہ کی مسجد میں اخلاق باختہ حرکت پر بنگلہ دیشی مرد اور خاتون کا سرقلم

0

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ مقدس شہر مکہ کی ایک مسجد کے اندر اخلاق باختہ حرکت کرنے کا جرم ثابت ہونے پر ایک بنگلہ دیشی مرد اور عورت کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں سزائے موت سر قلم کرکے دی جاتی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں وزارت نے دونوں افراد کی شناخت نذر الاسلام عبد الباصیر اور ستی اختر کے طور پر کی ہے، جو دونوں بنگلہ دیش کے شہری تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی حکام نے دونوں کو مکہ کی ایک مسجد کے اندر غیر اخلاقی حرکتیں کرنے کے بعد گرفتار کیا۔ تفتیش کے بعد دونوں پر فرد جرم عائد کی گئی اور انہیں ایک مجاز عدالت میں پیش کیا گیا، جس نے انہیں قصوروار پایا اور اسلامی قانون کے تحت تعزیر کی سزا کے طور پر سزائے موت سنا دی۔

وزارت نے کہا کہ عدالت نے جرم کی سنگین نوعیت، مسجد کے تقدس پامال کرنے اور جن حالات میں یہ حرکتیں کی گئیں، ان کی وجہ سے یہ سزائیں نافذ کیں۔

متعلقہ عدالتی اتھارٹی کی طرف سے فیصلوں کی توثیق کے بعد فیصلے حتمی ہو گئے اور ان کے نفاذ کی اجازت دینے کا شاہی حکم نامہ جاری کیا گیا۔

سزائے موت کا یہ حکم 14 اکتوبر 2026 کو مکہ کے علاقے میں نافذ کیا گیا۔

وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں امن و امان برقرار رکھنے، انصاف کی پاسداری کرنے اور مساجد کے تقدس کی پامالی کرنے والوں کے خلاف اسلامی قانون کے نفاذ کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزارت نے یہ بھی خبردار کیا کہ اس طرح کے جرائم کا ارتکاب کرنے والے ہر شخص کو مملکت کے قوانین کے تحت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بنگلہ دیش کی جانب سے فوری طور پر اس واقعے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ بنگلہ دیشی ذرائع ابلاغ نے بھی صرف سعودی عرب کا بیان شائع کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.