اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ حکومت کے لیے آسان نہیں تھا۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کو اعتماد میں لینے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کے لیے ایک ماہ سے زائد عرصے تک رابطے اور مذاکرات کیے گئے، تاہم کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہ آسکا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور ثمر ہارون بلور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی کوشش تھی کہ خیبرپختونخوا حکومت کو ساتھ ملا کر دہشت گردی کا مقابلہ کیا جائے، کیونکہ اس جنگ میں تمام حکومتوں کو مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان لانگ مارچ کے اعلان سے پہلے ہی متعدد مطالبات پر پیشرفت جاری تھی۔ ملاقاتوں اور دیگر معاملات پر بھی بات چیت ہورہی تھی، اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسائل کے حل کے لیے کوششیں جاری ہونے کے باوجود لانگ مارچ کا اعلان کیوں کیا گیا۔
محسن نقوی کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان دو روز تک مذاکرات ہوئے اور مسودے کو چار مرتبہ حتمی شکل دی گئی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے تجویز کردہ پانچ سے چھ ترامیم بھی قبول کرلی گئیں، تاہم تمام نکات پر اتفاق کے بعد اچانک نیا مسودہ سامنے آگیا۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات 15 یا 16 ستمبر کو طے کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاکہ بیرون ملک روانگی سے پہلے ملاقات کرا کے صورتحال معمول پر لائی جاسکے۔ بعد ازاں وزیراعظم اور اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات ہوئی اور مذاکراتی کمیٹی قائم کی گئی، جس کے ذریعے پی ٹی آئی کے ساتھ دو روز تک بات چیت جاری رہی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا عزم ظاہر کیا تھا۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی بھی مذاکراتی ٹیم کو پہلے سے طے شدہ معاملات کی منظوری دے چکے تھے، جبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں سے رات 12 بجے تک رابطہ برقرار رہا۔
محسن نقوی کے مطابق مسودے کے ایک پیراگراف پر پی ٹی آئی سے تجاویز طلب کی گئی تھیں، تاہم جواب موصول نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں وزیراعظم کی جانب سے اپوزیشن لیڈر سے ملاقات اور لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کا فیصلہ بھی ہوا تھا، لیکن مسلسل رابطوں کے باوجود بات چیت کامیاب نہ ہوسکی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی، جبکہ مولانا نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے بھی رابطہ کیا، مگر ان کوششوں کے باوجود کوئی پیشرفت نہ ہوسکی۔
محسن نقوی نے خیبرپختونخوا کی امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے 12 اضلاع میں حالات انتہائی خراب ہیں اور بعض علاقوں میں لوگ شام کے بعد گھروں سے باہر نکلنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے متعدد ملاقاتوں میں صرف دہشت گردی کے معاملے پر گفتگو ہوئی، سیاسی امور زیرِ بحث نہیں آئے۔
پریس کانفرنس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے واقعات میں تقریباً 200 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق زیادہ تر حملوں میں پاک فوج، خیبرپختونخوا پولیس اور علما کرام کو نشانہ بنایا گیا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سرحدی علاقوں کی صورتحال تشویشناک ہے اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے اثرات دوسرے صوبوں تک بھی پہنچ رہے تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں ملک میں سرمایہ کاری کیسے ممکن ہوگی۔
وزیر قانون کے مطابق آئین کا آرٹیکل 232 ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق ہے۔ وزیراعظم کی صدارت میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مشاورت اور تفصیلی غور و خوض کے بعد صدر مملکت نے وزیراعظم کے مشورے پر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات رات ڈھائی بجے تک جاری رہے، تاہم صوبے کی صورتحال میں بہتری کے لیے آئینی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اعظم نذیر تارڑ کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبائی حکومت کو غیر فعال کردیا گیا ہے اور وفاق کی جانب سے گورنر کو صوبائی حکومت کے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔ گورنر کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
وزیر قانون نے کہا کہ ایمرجنسی کے فیصلے کی دس دن کے اندر توثیق ہوگی اور پارلیمنٹ کا اجلاس بلا کر مشترکہ اجلاس میں منظوری لی جائے گی۔ ان کے مطابق تمام معاملات پارلیمان کے سامنے رکھے جائیں گے۔
دوسری جانب وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی پر دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے غیر سنجیدہ ہونے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں مختلف سیاسی جماعتوں کو حملوں کا سامنا رہا، تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی پر حملے کیوں نہیں ہوئے۔
عطا اللہ تارڑ نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے روابط دہشت گردوں سے جڑے ہوئے ہیں اور اس کی دہشت گردی کے خلاف کوششیں سنجیدہ نہیں۔ انہوں نے پولیس ایکٹ پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد پی ٹی آئی کے حامیوں کو پولیس فورس میں جگہ دینا ہے۔ وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں ٹیکنوکریٹ کا انتخاب میرٹ پر کیا گیا ہے۔