پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کا آغاز آج
راولپنڈی: پاکستان اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیمیں تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز میں جمعے سے آمنے سامنے ہوں گی۔ افتتاحی مقابلے سے قبل دونوں ٹیموں کے کپتانوں نے سیریز کی ٹرافی کی رونمائی کی اور پری سیریز پریس کانفرنس میں اپنی تیاریوں، ٹیموں کی حکمت عملی اور توقعات پر گفتگو کی۔
پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان صاحبزادہ فرحان پہلی مرتبہ دوطرفہ سیریز میں قومی ٹیم کی قیادت کریں گے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کپتانی کے ساتھ دباؤ بھی آتا ہے، تاہم اس ذمہ داری کو اپنے کھیل پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔
صاحبزادہ فرحان کا کہنا تھا کہ کپتان کو آگے بڑھ کر مثال قائم کرنا اور اپنی کارکردگی سے ٹیم کی رہنمائی کرنا ہوتی ہے۔ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے ساتھ اپنے فطری کھیل کو برقرار رکھنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا اچھا امتزاج موجود ہے، جبکہ فخر زمان کی واپسی سے ٹیم مزید مضبوط ہوگی۔
پاکستانی ٹیم کی ابتدائی اور آخری اوورز میں بولنگ کی مشکلات سے متعلق سوال پر صاحبزادہ فرحان نے کہا کہ ٹیم ان خامیوں سے آگاہ ہے اور انہیں دور کرنے کے لیے کام کررہی ہے۔ ان کے مطابق ان شعبوں میں بہتری لانے کی کوششیں جاری ہیں۔
قومی کپتان نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی کرکٹ میں دباؤ ہر مقابلے کا حصہ ہوتا ہے، چاہے حریف ٹیم زمبابوے جیسی نسبتاً کم مضبوط ٹیم ہی کیوں نہ ہو۔
دوسری جانب سری لنکن کپتان کوسل مینڈس نے پاکستان کی موجودہ ٹیم کو مضبوط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کئی نئے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم ان کی صلاحیتوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سری لنکا کے متعدد کھلاڑی پاکستان میں کھیلنے کا تجربہ رکھتے ہیں اور یہاں کے حالات سے واقف ہیں۔
مینڈس نے کہا کہ اس وقت کرکٹ کا مصروف شیڈول جاری ہے اور پاکستان و سری لنکا کے حالات میں زیادہ فرق نہیں۔ انہیں اپنے کھلاڑیوں پر اعتماد ہے اور امید ہے کہ وہ اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔
سری لنکن آل راؤنڈر وینندو ہسرنگا کی عدم موجودگی اور ان کی جگہ لینے والے کھلاڑی سے متعلق سوال پر مینڈس نے کہا کہ ٹیم میں ایسے نوجوان کھلاڑی موجود ہیں جو اچھی کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
افتتاحی میچ کے لیے ٹیم کے ممکنہ امتزاج پر بات کرتے ہوئے سری لنکن کپتان نے کہا کہ حتمی فیصلہ پچ کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔ ان کے مطابق حالات کو دیکھتے ہوئے تین فاسٹ بولرز اور دو اسپنرز کے ساتھ میدان میں اترنے کا امکان زیرِ غور ہے۔
کوسل مینڈس نے ہیڈ کوچ گیری کرسٹن کی بھی تعریف کی اور انہیں بہترین کوچ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ مستقبل کے بڑے ٹورنامنٹس کے لیے ٹیم کی تیاریوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
تین میچوں پر مشتمل یہ سیریز دونوں ٹیموں کو اپنے کھلاڑیوں کی صلاحیتیں جانچنے، ٹیم کے امتزاج کو بہتر بنانے اور آئندہ بین الاقوامی مقابلوں سے پہلے اپنی تیاریوں کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کرے گی۔