تازہ ترین

لانگ مارچ کی حکمت عملی تبدیل، قافلہ خیبر کی جانب روانہ ہوگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

0

کوہاٹ: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا روٹ تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قافلہ پہلے خیبر کی جانب جائے گا اور اس کے بعد پشاور کا رخ کرے گا۔

کوہاٹ کے یونیورسٹی چوک پر لانگ مارچ کے تیسرے روز شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ پہلے پشاور کی جانب جانے کیلئے طے کیا گیا تھا، تاہم اب حکمت عملی کے تحت روٹ تبدیل کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں، ابھی بہت سے اوورز اور کھلاڑی باقی ہیں، اس لیے لانگ مارچ کے روٹ میں تبدیلی بھی تحریک کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر سے 4 اکتوبر تک لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل کیے جانے پر بھی حکام کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا اور اب احتجاج کے دورانیے پر بھی تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔

سہیل آفریدی نے لانگ مارچ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے معاملے میں تمام آئینی اور قانونی راستے اختیار کیے جاچکے ہیں، اس لیے انصاف کے حصول کیلئے سڑکوں پر نکلنا پڑا۔

انہوں نے کوہاٹ کے عوام کا لانگ مارچ میں بھرپور شرکت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کارکن کسی سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ لانگ مارچ کا مقصد بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور انہیں دوبارہ وزیراعظم بنوانا ہے، جبکہ ان کے بقول عمران خان کی قیادت میں ملک ترقی اور خوشحالی کی جانب بڑھ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کے سات نکاتی مطالبات پہلے ہی عوام کے سامنے رکھے جاچکے ہیں اور کسی بھی مطالبے کی نشاندہی کی جائے جو آئین یا قانون کے خلاف ہو۔

سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی کیلئے طبی سہولیات، ان سے ملاقات اور رہائی کے مطالبات کو قانونی قرار دیتے ہوئے عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کو طاقتور حلقوں کے سامنے جھکنے سے انکار کرنے کی وجہ سے جیل میں رکھا گیا ہے اور قومی میڈیا میں ان کے نام اور تصویر پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

وزیراعلیٰ نے عمران خان کی صحت سے متعلق اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں کوئی نقصان پہنچا تو جیل انتظامیہ، وزیراعظم اور دیگر متعلقہ حکام ذمہ دار ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ عدالتیں، اسمبلیاں اور ریاستی ادارے عوام کے ٹیکس سے چلتے ہیں، اس لیے عوام کو انصاف کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ وزیراعلیٰ بننے کے بعد انہوں نے متعدد مرتبہ متعلقہ حکام سے عمران خان سے ملاقات کی اجازت مانگی، وزیراعظم سے بھی رابطہ کیا، تاہم ملاقات نہیں ہوسکی۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی نے بھی عمران خان سے ملاقات کیلئے قرارداد منظور کی جبکہ چیف جسٹس پاکستان سے بھی رابطہ کیا گیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان سے ملاقات اور طبی علاج سے متعلق اعلیٰ عدالتوں کے احکامات پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے مذاکرات کے عمل پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی ہمیشہ سیاسی مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی حمایت کرتی رہی ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے گزشتہ 22 برس کے دوران فوجی کارروائیوں اور ڈرون حملوں کی افادیت پر سوال اٹھایا اور دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت کی پالیسی کے ذریعے 100 دن میں امن بحال کیا جاسکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.