نئے کیڈٹ کالجز بنانے کے بجائے موجودہ اداروں کا معیار بہتر بنائیں گے، گورنر بلوچستان
کوئٹہ: بلوچستان میں کیڈٹ کالجز کے معیار کو مزید بہتر بنانے کیلئے حکومت نے نئے اداروں کی تعداد بڑھانے کے بجائے موجودہ کالجز کی کارکردگی اور سہولیات کو ملک کے بہترین کیڈٹ کالجز کے برابر لانے پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بات گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے بلوچستان کے کیڈٹ کالجز کے بورڈ آف گورنرز کے 19ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں صوبے کے 12 کیڈٹ کالجز کی کارکردگی، مسائل اور مستقبل کی ضروریات کا جائزہ لیا گیا۔
گورنر بلوچستان نے کہا کہ موجودہ کیڈٹ کالجز کے طلبہ و طالبات اور اساتذہ کو بہتر سہولیات، معیاری تعلیم اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنا ترجیح ہے، جبکہ کالجز کی انتظامی، تدریسی اور بنیادی ضروریات ترجیحی بنیادوں پر پوری کی جائیں گی۔
جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ ملک کے ممتاز کیڈٹ کالجز کی طرز پر جدید اسپورٹس کمپلیکس، جمز اور معیاری کھیلوں کے گراؤنڈز تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ کانووکیشن ہالز، بہتر ٹرانسپورٹ اور فول پروف سکیورٹی سمیت دیگر ضروری سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو کیڈٹ کالجز کے ساتھ بھرپور تعاون کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ان اداروں کے قیام کے بنیادی مقصد کو حاصل کرنے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
گورنر بلوچستان نے مزید کہا کہ طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ضرورت کے مطابق اضافی کلاس رومز، ہاسٹلز، اسپورٹس کمپلیکس، سکیورٹی اور طبی سہولیات کی فراہمی میں بھی معاونت کی جائے گی۔
اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے آن لائن شرکت کی، جبکہ وزیراعلیٰ کی مشیر ربابہ بلیدی، رکن صوبائی اسمبلی دستگیر بادینی، سیکریٹری ہائیر ایجوکیشن ہاشم خان غلزئی، پرنسپل سیکریٹری ٹو گورنر عبدالناصر دوتانی، ایڈیشنل سیکریٹری ایس اینڈ جی اے ڈی رحمت چنگیزی، کیڈٹ کالجز کے پرنسپلز اور فنانس و پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے بھی موجود تھے۔