اسلام آباد: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کا پاکستان کو ایک انتہائی خطرناک تنازع میں ثالث کے طور پر قبول کرنا ملک کی سفارتی ساکھ اور عالمی اعتماد کی اہم علامت ہے۔
پاکستان کے دورے کے دوران نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں انتونیو گوتریس نے پاکستانی قیادت کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ دونوں فریقوں کا پاکستان پر اعتماد انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
پرتگال سے تعلق رکھنے والے گوتریس نے یکم جنوری 2017 کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا منصب سنبھالا تھا اور ان کی دوسری پانچ سالہ مدت 31 دسمبر 2026 کو مکمل ہوگی۔
پاکستان کے ساتھ ان کا تعلق سیکریٹری جنرل بننے سے بہت پہلے قائم ہوچکا تھا۔ وہ 2005 سے 2015 تک اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ہائی کمشنر رہے اور اسی دوران متعدد مرتبہ پاکستان آئے جہاں انہوں نے افغان مہاجرین کے معاملے کو قریب سے دیکھا۔
گوتریس نے 2020 میں پاکستان کے سرکاری دورے کے دوران افغان مہاجرین کی طویل میزبانی پر پاکستانی عوام اور حکومت کو خراج تحسین پیش کیا تھا اور عالمی برادری پر پاکستان کی معاونت کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
پاکستان اور گوتریس کے تعلق میں موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات بھی اہم موضوع رہے ہیں۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد انہوں نے عالمی برادری سے پاکستان کیلئے فوری امداد، بحالی اور تعمیر نو میں مدد کی اپیل کی تھی۔
گوتریس کے دورِ سربراہی میں کووڈ 19، روس یوکرین جنگ، غزہ، افغانستان، یمن، سوڈان اور دیگر عالمی بحران اقوام متحدہ کے اہم ایجنڈے کا حصہ رہے۔
اب ان کی دوسری مدت کے اختتام میں چند ماہ باقی ہیں اور 2026 ان کے سیکریٹری جنرل کے طور پر آخری سال ہے۔ پاکستان کا موجودہ دورہ بھی اسی تناظر میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ Pasted markdown