تازہ ترین

بھارت میں الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج،اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی حراست کے بعد رہا

0

بھارتی پولیس نے ووٹر لسٹوں میں بڑے پیمانے پر ردو بدل کے خلاف نئی دہلی میں احتجاجی مارچ کے دوران اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کو مختصر حراست میں لینے کے بعد رہا کر دیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس کی جانب سے راستہ روکے جانے پر کانگریس کے رہنما راہول گاندھی پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹوں پر چڑھ گئے۔

بعد ازاں پولیس نے انہیں دیگر ارکانِ پارلیمنٹ کے ہمراہ حراست میں لیا، تاہم کچھ دیر بعد سب کو رہا کر دیا گیا۔

اپوزیشن رہنماؤں نے الیکشن کمیشن پر ووٹر لسٹوں پر نظرِ ثانی کے فیصلوں میں بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ الیکشن کمیشن ایسا وزیراعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بی جے پی کی ایما پر کر رہا ہے۔ اپوزیشن نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔

منگل کو اپوزیشن ارکان نے پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹرز تک مارچ شروع کیا، لیکن بھاری پولیس نفری نے انہیں راستے میں ہی روک دیا۔

بعد ازاں راہول گاندھی اور ان کی بہن پریانکا گاندھی نے الیکشن کمیشن کے دفتر سے ملحقہ پبلک ریڈیو کی عمارت کے اندر ڈیرے ڈال لیے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے راہول گاندھی نے الزام عائد کیا کہ ’نریندر مودی نے ووٹ چوری کے ذریعے ملک کو ہائی جیک کر لیا ہے۔ ہمارے ملک کے ساتھ جو کیا گیا ہے وہ غداری کہلاتا ہے، اور کوئی بھی اس سے بچنے والا نہیں ہے‘۔

دوسری جانب بھارتی الیکشن کمیشن نے بے ضابطگیوں کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ووٹر لسٹوں پر نظرِ ثانی کے اس عمل کا مقصد انتخابی فہرستوں کی درستگی اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔

واضح رہے کہ یہ احتجاج الیکشن کمیشن کے خلاف اس وسیع مہم کا حصہ ہے جس میں گزشتہ ماہ بھارتی اخبار کی ایک رپورٹ کے بعد دوبارہ شدت آئی تھی۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کے 3 میں سے 2 ارکان نے ووٹر لسٹوں پر نظرِ ثانی کے اہم فیصلوں پر کم از کم 14 مرتبہ باضابطہ اعتراض کیا تھا اور 2025 میں شروع ہونے والی اس مہم کے دوران اب تک 13 کروڑ شہریوں کے نام فہرست سے نکالے جا چکے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.