غزہ پر خاموش رہے تو عالمی ساکھ کیا رہ جائے گی، فرانسیسی صدر
فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں غزہ کی صورتحال پر عالمی برادری کی توجہ دلاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دنیا اس معاملے پر غیر فعال رہی تو عالمی اداروں کی ساکھ متاثر ہوگی، جبکہ انہوں نے غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی بحال کرنے پر زور دیا ہے۔
میکخواں نے کہا کہ غزہ میں امن کے حوالے سے دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم ان کے مطابق انسانی امداد کے لیے مطلوبہ راستے تاحال مکمل طور پر بحال نہیں ہوئے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
فرانسیسی صدر نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں سے متعلق صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے بھی اپنے خطاب میں مغربی کنارے میں تشدد، بے دخلی اور آبادکاری میں اضافے کو امن کے امکانات کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
میکخواں نے کہا کہ اسرائیل کی سلامتی خطے کے دیگر ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزی کے ذریعے یقینی نہیں بنائی جا سکتی اور ایسے اقدامات مستقبل میں بھی خطے کی سلامتی پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے میکخواں کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے مغربی کنارے میں اسرائیلی شہریوں پر حملوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ ایسے واقعات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
یہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے میکخواں کا بطور فرانسیسی صدر آخری خطاب تھا، کیونکہ ان کی صدارتی مدت اگلے سال مکمل ہونے والی ہے۔