امن، سیاسی استحکام اور عوامی حقوق کیلئے بامعنی اقدامات کیے جائیں: مولانا عبدالواسع
کوئٹہ: بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی نے جہاں شہریوں کے معمولاتِ زندگی کو متاثر کیا ہے، وہیں تجارت، تعلیم، زراعت، صنعت اور سرکاری سرگرمیاں بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر اور سینیٹر مولانا عبدالواسع نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں معمولاتِ زندگی عملاً مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔
مولانا عبدالواسع کے مطابق دہشتگردی کے واقعات، قومی شاہراہوں کی بندش، قتل و غارت اور عدم تحفظ کے باعث عوام، تاجروں، طلبہ، ملازمین، زمینداروں اور ٹرانسپورٹرز سمیت مختلف طبقات شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران کو صرف امن و امان کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں، کیونکہ اس کے اثرات بلوچستان کے سیاسی، معاشی، سماجی اور انتظامی مستقبل تک پہنچ رہے ہیں۔
صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کے حل اور امن کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ ان کے مطابق جمعیت علمائے اسلام نے سیاسی اختلافات کے باوجود امن، سیاسی استحکام اور عوامی مفاد کے لیے حکومت سے تعاون کی کوشش کی، تاہم اس تعاون کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
مولانا عبدالواسع نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے بحران کا حل نمائشی اقدامات کے بجائے عوامی مینڈیٹ کے احترام، سیاسی قوتوں سے بامعنی مشاورت، آئین و قانون کی بالادستی، مؤثر امن و امان اور عوام کو بنیادی حقوق کی فراہمی کے ذریعے تلاش کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پالیسی میں سنجیدہ تبدیلی نہ لائی گئی تو بحران مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔