ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث ایک بار پھر سیاسی منظرنامے میں نمایاں ہوگئی۔ وفاقی وزیر دفاع اور مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ محمد آصف نے پیپلز پارٹی کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا کہ پنجاب میں سرائیکی صوبے کی بات ہو تو پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرتی ہے یا کم از کم نرم مؤقف اختیار کرتی ہے، لیکن جب چار کے بجائے مزید صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بات کی جاتی ہے تو سندھ کی علیحدگی سے متعلق نعرے سامنے آنے لگتے ہیں۔
وفاقی وزیر دفاع نے پیپلز پارٹی کی اس پالیسی کو دوہرا معیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے پیچھے کچھ دیگر عوامل بھی دیکھتے ہیں، جن کی تفصیل وہ مناسب وقت پر بیان کریں گے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ملک کے شہری سب سے پہلے پاکستانی ہیں۔ ان کے مطابق اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ایک آئینی اصول ہے، جسے 18ویں ترمیم کے ذریعے تسلیم کیا گیا، تاہم اس اصول پر مطلوبہ انداز میں عمل نہیں ہوسکا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اختیارات کی منتقلی کے آئینی اصول پر سنجیدگی اور دیانت داری سے عمل کیا جائے، تاکہ جمہوریت نچلی سطح تک مضبوط ہو اور عام شہری اس کے ثمرات سے مستفید ہوسکیں۔
وفاقی وزیر دفاع نے موجودہ انتظامی نظام پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اختیارات کا ارتکاز نظام کو غیر مؤثر بنا رہا ہے، جسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انتظامی تقسیم کے لیے نئے صوبے بنائے جائیں یا انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں، اصل مقصد اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ملک میں موجود 36 ڈویژنز کو نئے انتظامی نظام کی بنیاد بنایا جاسکتا ہے یا اس مقصد کے لیے کوئی اور جغرافیائی انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اب ناگزیر ہوچکی ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں نئے صوبوں، انتظامی یونٹس اور اختیارات کی تقسیم کے معاملے پر سیاسی بحث جاری ہے۔