تازہ ترین

سندھ اسمبلی کا اجلاس ہنگامہ آرائی کی نذر، اپوزیشن کی نعرے بازی

0

کراچی: سندھ اسمبلی کا جمعہ کو ہونے والا اجلاس اپوزیشن کی شدید نعرے بازی اور شور شرابے کی زد میں رہا، جہاں ایم کیو ایم کے ارکان نے ’سندھو دیش نامنظور‘ کے نعرے لگائے، جبکہ مختصر کارروائی کے بعد اجلاس پیر تک ملتوی کردیا گیا۔

سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی زیر صدارت مقررہ وقت ڈھائی بجے کے بجائے خاصی تاخیر سے شروع ہوا۔ کارروائی کے آغاز ہی میں ایم کیو ایم کے ارکان نے نعرے بازی شروع کردی۔

اسپیکر نے ارکان کو ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ہدایت کی، تاہم اپوزیشن ارکان کی جانب سے شور شرابے کا سلسلہ جاری رہا، جس کے باعث ایوان میں کارروائی سننا بھی مشکل ہوگیا۔

ہنگامہ آرائی کے دوران وزیر قانون و پارلیمانی امور ضیاالحسن لنجار نے آڈٹ رپورٹ ایوان میں پیش کی، جبکہ مشیر انسانی آباد کاری نجمی عالم نے محکمہ کچی آبادی سے متعلق ارکان کے تحریری اور ضمنی سوالات کے جوابات دیے۔

نجمی عالم نے بتایا کہ 2011 سے پہلے کی کچی آبادیوں کو ہی لیز کیا جائے گا، جبکہ اس کے بعد قائم ہونے والی آبادیوں کو قبضہ تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ لیز کے لیے بورڈ آف ریونیو کا این او سی لازمی ہے۔

ان کے مطابق کچی آبادیوں سے وصول ہونے والی رقم کا 50 فیصد اسی آبادی پر خرچ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کراچی میں مسلسل نقل مکانی کے باعث بڑھتی آبادی کا بھی ذکر کیا۔

نجمی عالم نے بتایا کہ ’لائنز ایریا‘ پروجیکٹ کے لیے پروجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کردیا گیا ہے اور 10 سے 12 دن میں بورڈ اجلاس کے بعد ری سیٹلمنٹ کے لیے پلاٹس سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کچی آبادی کا پلاٹ ایسے شخص کو نہیں دیا جائے گا جس کے پاس پہلے سے کوئی پراپرٹی موجود ہو۔ حکومت نے غریب افراد کے لیے ’سستی بستی‘ قائم کرنے کی غرض سے ریونیو ڈپارٹمنٹ سے زمین بھی مانگی ہے، تاہم حکومت گھر بنا کر نہیں دے گی۔

اجلاس میں کراچی کے پانی کے بحران کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ ایم کیو ایم کے رکن عامر صدیقی نے آدم کالونی اور سولجر بازار میں پانی کی شدید قلت پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا۔

پارلیمانی سیکریٹری قاسم سراج سومرو نے بتایا کہ پورے کراچی شہر کو 12 گھنٹے کی روٹیشن پر پانی فراہم کیا جا رہا ہے اور متعلقہ علاقے کی بلنگ صفر ہے کیونکہ وہاں لوگ بل ادا نہیں کرتے۔

اجلاس کے دوران رکن اسمبلی فیصل رفیق نے 44 سال سے حل نہ ہونے والے مسائل کی جانب بھی توجہ دلائی، جبکہ مسلسل نعرے بازی کے باعث عامر صدیقی نے تحریک التوا پر بات کرنے سے انکار کردیا۔

بعدازاں اسپیکر سید اویس قادر شاہ نے سندھ اسمبلی کا اجلاس پیر کی دوپہر ڈھائی بجے تک ملتوی کردیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.