روس چین شراکت داری مضبوط، توانائی تعاون مزید بڑھانے پر زور
ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس اور چین کے تعلقات مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان جامع شراکت داری اور اسٹریٹجک تعاون مزید وسعت اختیار کر رہا ہے۔
پیوٹن نے روس چین انرجی بزنس فورم کے آٹھویں اجلاس کے شرکاء، منتظمین اور مہمانوں کے نام اپنے پیغام میں دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کو خصوصی اہمیت دی۔
روسی صدر کے مطابق توانائی روس اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کا ایک اہم ترین شعبہ ہے اور دوطرفہ اقتصادی تعلقات میں تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس چینی صارفین کو تیل اور قدرتی گیس فراہم کرنے والے اہم ممالک میں اپنی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ چین کی کوئلے اور مائع قدرتی گیس کی درآمدات میں بھی روس نمایاں برآمد کنندگان میں شامل ہے۔
پیوٹن نے چین میں روسی ڈیزائن کے تحت تعمیر کیے جانے والے جوہری توانائی کے منصوبوں میں پیش رفت کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ کئی پاور یونٹس تکمیل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
ان کے مطابق دونوں ممالک ہائیڈروکاربن کی تلاش، پروسیسنگ اور نقل و حمل سمیت توانائی کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے بھی تعاون کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک توانائی کے شعبے میں کارکردگی بڑھانے اور ماحول کے لیے زیادہ محفوظ طریقے تلاش کرنے پر بھی کام کر رہے ہیں۔
روسی صدر نے حکومتی اداروں، کاروباری شعبے اور دونوں ممالک کے ماہرین کے درمیان براہ راست رابطوں کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق مسلسل مشاورت سے توانائی کے شعبے میں درپیش مشترکہ مسائل کے حل میں مدد مل سکتی ہے۔
پیوٹن نے امید ظاہر کی کہ انرجی فورم میں شریک حکام، کاروباری نمائندے اور ماہرین تعمیری تجاویز پیش کریں گے اور ان تجاویز کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جاسکے گا۔