حنا جاوید کی ہلاکت، تفتیش جاری، فرانزک رپورٹ سے مزید حقائق سامنے آنے کا امکان
راولپنڈی میں حنا جاوید کی ہلاکت کے مقدمے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، عدالت نے مقتولہ کے شوہر اور گھریلو ملازم کو مزید تفتیش کے لیے تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ہے۔ پولیس کی جانب سے کیس کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ حتمی وجہ موت فرانزک شواہد کی روشنی میں سامنے آنے کا امکان ہے۔
ڈیوٹی مجسٹریٹ راولپنڈی نے سول لائنز پولیس کی درخواست پر دونوں زیرحراست افراد کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔ پولیس نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ مقدمے کی تفتیش آگے بڑھانے، شواہد جمع کرنے اور زیرحراست افراد سے مزید پوچھ گچھ کے لیے جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔
حنا جاوید جمعرات کی شام راولپنڈی کے عسکری اپارٹمنٹس میں واقع اپنے فلیٹ کے واش روم میں مردہ حالت میں پائی گئی تھیں۔ پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر مقتولہ کے جسم پر تشدد کے نشانات موجود ہونے کی اطلاع ملی جبکہ گردن کے گرد تار بندھا ہوا تھا جو شاور راڈ سے منسلک تھا۔
واقعے کے بعد پولیس نے مقتولہ کے شوہر اور ایک گھریلو ملازم کو حراست میں لے کر تحقیقات شروع کیں۔ دونوں افراد کو اتوار کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں پولیس نے کیس کی مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی۔
عدالت نے پولیس کی درخواست منظور کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو تین روز کے لیے پولیس کے حوالے کردیا اور ہدایت کی کہ ریمانڈ مکمل ہونے پر تفتیش میں ہونے والی پیش رفت سے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔
مقدمے کی ایف آئی آر 20 اگست کو تھانہ سول لائنز میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 302 اور 34 کے تحت درج کی گئی۔ مقتولہ کے بھائی فہد جاوید کی مدعیت میں درج مقدمے میں حنا جاوید کے شوہر، سسر اور گھریلو ملازم پر قتل میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق فہد جاوید کو جمعرات کی شام 6 بج کر 53 منٹ پر حنا کے سسر کی جانب سے فون پر گھر میں ہنگامی صورتحال سے متعلق اطلاع دی گئی۔ فہد اپنے دیگر اہل خانہ کے ہمراہ اپارٹمنٹ پہنچا اور تقریباً 7 بج کر 23 منٹ پر وہاں پہنچنے کے بعد اپنی بہن کو واش روم میں مردہ حالت میں دیکھا۔
مقتولہ کے بھائی نے ایف آئی آر میں الزام عائد کیا ہے کہ حنا جاوید کو شوہر کی جانب سے مبینہ طور پر تشدد اور بدسلوکی کا سامنا تھا۔ انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ ممکنہ طور پر موت سے قبل حنا کو کوئی زہریلی چیز دی گئی ہو، تاہم اس حوالے سے حتمی حقیقت تفتیش اور فرانزک رپورٹ کے بعد ہی سامنے آسکے گی۔
ایف آئی آر کے مطابق حنا جاوید کی شادی نومبر 2025 میں ہوئی تھی۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گردن پر گلا گھونٹنے کا نشان، دائیں ہونٹ کے نیچے چوٹ اور خون بہنے کے شواہد کا ذکر کیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق موت کی حتمی وجہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد معلوم ہوسکے گی۔ پولیس مختلف شواہد، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر تفتیشی معلومات کو سامنے رکھتے ہوئے کیس کی تحقیقات آگے بڑھا رہی ہے۔
کیس میں مقتولہ کے سسر کا کردار بھی تاحال واضح نہیں ہوسکا۔ پولیس ان سے پوچھ گچھ کررہی ہے اور انہیں شہر سے باہر نہ جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
قتل کیس کی تحقیقات کے لیے راولپنڈی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس انویسٹی گیشن سیف اللہ کی سربراہی میں سات رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق مقتولہ اور اس کے خاندان کے تین افراد کے موبائل فون بھی تحویل میں لے لیے گئے ہیں جن کا فرانزک اور دیگر تفتیشی پہلوؤں سے جائزہ لیا جارہا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں حاصل ہونے والے شواہد، فرانزک رپورٹ اور زیرحراست افراد کے بیانات کی روشنی میں واقعے کے اصل حقائق تک پہنچنے کی کوشش کی جارہی ہے۔