تازہ ترین

پولیو کو شکست دے کر پلوشہ شہزادی ہائی کورٹ کی وکیل بن گئیں

0

عزم، محنت اور تعلیم کے ذریعے مشکلات کا مقابلہ کرنے والی کوئٹہ کی نوجوان وکیل پلوشہ شہزادی نے ہائی کورٹ کی وکیل بن کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ چار سال کی عمر میں پولیو کا شکار ہونے کے باوجود انہوں نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور اب مجسٹریٹ بننے کے لیے مقابلے کا امتحان پاس کرنا ان کا اگلا ہدف ہے۔

پلوشہ شہزادی کے بائیں بازو اور پاؤں پر پولیو کے اثرات کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور وکالت کے شعبے میں اپنی جگہ بنائی۔ ان کی جدوجہد ان افراد کے لیے حوصلہ افزا مثال ہے جو جسمانی معذوری کے باوجود پیشہ ورانہ میدان میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

نوجوان وکیل پلوشہ شہزادی نے بتایا کہ وکالت کا پیشہ اختیار کرنے کی مخالفت کرنے والے ساتھی بھی اب ان کی صلاحیتوں اور محنت کا اعتراف کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معذور افراد بھی قانون کے شعبے میں اپنی صلاحیتوں کے ذریعے مقام حاصل کر سکتے ہیں اور اہلِ خانہ کی حمایت میسر ہو تو بہت سی مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

پلوشہ شہزادی نے عزم ظاہر کیا کہ وہ مقابلے کا امتحان پاس کرکے مجسٹریٹ بننا چاہتی ہیں تاکہ ملک کا نام روشن کر سکیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.