تازہ ترین

دہشت گردی کے خلاف قومی حکمتِ عملی اتفاقِ رائے سے بنائی جائے، فضل الرحمان

0

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کی انسدادِ دہشت گردی پالیسی اور خیبرپختونخوا میں گورنر راج و ایمرجنسی کے نفاذ کے جواز پر سوالات اٹھاتے ہوئے پارلیمنٹ کا اِن کیمرا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکامی کی وجوہات کا جائزہ پارلیمنٹ میں لیا جانا چاہیے۔
لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو بے اختیار قرار دیا اور کہا کہ ان کی تنقید حکومتی پالیسیوں پر ہے، ریاستی اداروں پر نہیں۔ ان کے مطابق اس تنقید کا مقصد اصلاحی اقدامات کی راہ ہموار کرنا ہے۔ انہوں نے وفاقی وزرا کی جانب سے اپنے خلاف الزامات کو کردار کشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی سے متعلق فیصلوں میں سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کے بجائے اس کا مذاق اڑانا یا اسے ریاست مخالف قرار دینا درست نہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی جماعت نے بھاری قربانیاں دی ہیں اور تقریباً 250 علما اور کارکن اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ جس جماعت کے ارکان نے اتنی قربانیاں دی ہوں، اس پر دہشت گردوں کی حمایت کا الزام کیسے لگایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی سلامتی کے لیے جماعت کی خدمات کو نظرانداز یا متنازع نہیں بنانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ ملک دہشت گردی ختم کرنے میں کامیاب کیوں نہیں ہو رہا۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ اس معاملے پر بحث، وجوہات کا جائزہ لینے اور آئندہ فیصلے کرنے کے لیے موزوں ترین فورم ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ سیاسی قیادت کو اعتماد میں لے کر مشترکہ طور پر دہشت گردی کا مقابلہ کرے۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے سکیورٹی سے متعلق فیصلوں کے طریقۂ کار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر پارلیمنٹ بالادست ہے تو فیصلے راولپنڈی میں کیوں ہوتے ہیں اور پارلیمنٹ سے صرف ان کی توثیق کی توقع کیوں کی جاتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت فیصلے خود کرنے کے بجائے کہیں اور کیے گئے فیصلوں پر عمل کرتی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے قومی اتفاقِ رائے سے انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی تیار کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اپنے فیصلوں کی وضاحت کرنی چاہیے اور یکطرفہ اقدامات کے بجائے عوام کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ انہوں نے سکیورٹی اداروں پر بھی زور دیا کہ سیاست دانوں کا مذاق نہ اڑایا جائے اور ان کی قربانیوں کو ہلکا نہ لیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے دہشت گردی کے خلاف ایک بین الاقوامی اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے، اس لیے پارلیمنٹ کا اِن کیمرا اجلاس بلانے کی ان کی تجویز قبول کی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر قوم سے دہشت گردی کے خلاف لشکر بنانے اور خندقوں میں بیٹھنے کی توقع کی جاتی ہے تو اسے کم از کم صورتِ حال سے آگاہ بھی کیا جانا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے فیصلوں پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کرنے کے فیصلے پر بھی اعتراض کیا، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ اسی جماعت پر دہشت گردوں کی حمایت کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.