پشاور میں خواتین کے لیے پنک بس سروس کا آغاز کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے صوبے میں پالیسی سازی اور سیاسی معاملات پر اپنے سخت مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بند کمروں کے فیصلے کسی صورت قبول نہیں کیے جائیں گے اور ضرورت پڑنے پر اپنی پالیسی منوانے کے لیے بغاوت بھی کریں گے۔
خیبرپختونخوا حکومت نے بی آر ٹی منصوبے میں پنک بسوں کو باضابطہ طور پر شامل کرلیا ہے۔ ابتدائی طور پر خواتین کے لیے 5 پنک بسیں چلائی جائیں گی، جبکہ 12 سال سے زائد عمر کے لڑکوں کا ان بسوں میں داخلہ ممنوع ہوگا۔
یہ سروس گلبہار اسٹیشن سے کارخانو مارکیٹ تک 21 کلومیٹر طویل کوریڈور پر پیر سے جمعہ تک صبح، دوپہر اور شام کے اوقات میں چلائی جائے گی۔ خواتین کے لیے اس سروس کا کرایہ عام کرائے کے مقابلے میں 25 فیصد کم رکھا گیا ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ حکومت قوم کا پیسہ فضول خرچ نہیں کرے گی اور تمام منصوبے عوام کے لیے مکمل کرکے ان کے حوالے کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پنک بس سروس میں ڈرائیور اور دیگر عملہ بھی خواتین پر مشتمل ہوگا، جبکہ اس سروس سے سفر کرنے والی خواتین کو کرایے میں 25 فیصد رعایت دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کے کردار کو سراہتے ہوئے انہیں رول ماڈل قرار دیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ عوامی نمائندے ہیں اور عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل اور مشکلات کو محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی پروگرام پر سرکاری اخراجات کیے گئے ہیں تو وہ ذاتی طور پر ایسے اخراجات برداشت نہیں کریں گے بلکہ متعلقہ وزیر کو اخراجات ادا کرنے ہوں گے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ سے آنے والے نمائندے عوام کی خدمت کرتے ہیں اور اپنے ذاتی مفادات کے لیے وسائل استعمال نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں رواں سال امن، ترقی اور خوشحالی کا سال ہوگا اور ایسی کوئی پالیسی اختیار نہیں کی جائے گی جس سے پاکستان کو خطرہ لاحق ہو۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ جو لوگ صوبے کے حوالے سے بند کمروں میں فیصلے کررہے ہیں انہیں مذاکرات کی میز پر لاکر اپنی پالیسی نافذ کرکے دکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے مفاد کے خلاف کسی پالیسی کو قبول نہیں کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر بغاوت بھی کریں گے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مزید کہا کہ 4 اکتوبر کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا مارچ ہوگا اور وہ ہر صورت مارچ کریں گے۔ ان کے مطابق عہدہ اور کرسی ان لوگوں کے لیے اہم ہوسکتی ہے جن کے اپنے مفادات ہوں، وہ دباؤ میں آکر پیچھے ہٹنے والے نہیں۔