تازہ ترین

پاکستان کا بھارت کو واضح پیغام، یکطرفہ آبی اقدامات قبول نہیں

0

پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کے تحفظ اور خطے میں آبی وسائل کے پُرامن استعمال کے لیے مذاکرات، عالمی قوانین اور ادارہ جاتی تعاون کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے پانی کے معاملے کو سیاسی دباؤ یا تنازع کا ذریعہ بنانے کی مخالفت کردی۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں ’’سندھ طاس معاہدہ: جنوبی ایشیا کی سلامتی دوراہے پر‘‘ کے عنوان سے اعلیٰ سطح کی پالیسی نشست منعقد ہوئی، جس میں امریکی پالیسی ماہرین، تھنک ٹینکس کے نمائندوں، ماہرین تعلیم، بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں، آبی و قانونی ماہرین اور سفارتی برادری سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

نشست کا مقصد سندھ طاس معاہدے کے مستقبل، اس کی قانونی حیثیت اور جنوبی ایشیا کے امن و سلامتی میں اس کے کردار کا جائزہ لینا تھا۔ پاکستان نے اس موقع پر معاہدے کے معاملے کو عالمی قانون، علاقائی استحکام، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور پُرامن سفارت کاری کے وسیع تر تناظر میں پیش کیا۔

مذاکرے کا افتتاح کرتے ہوئے امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستانی سفارتخانے کا فورم اہم علاقائی اور عالمی معاملات پر سنجیدہ، تعمیری اور بامعنی گفتگو کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کی غیر معمولی پائیداری کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ جنگوں، سیاسی بحرانوں اور پاکستان و بھارت کے درمیان طویل کشیدگی کے باوجود برقرار رہا ہے۔

اسحاق ڈار نے سندھ طاس معاہدے کی قانونی حیثیت اور علاقائی امن میں اس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف پانی کی تقسیم کا معاہدہ نہیں بلکہ ایک اہم مشترکہ وسیلے کے انتظام کا قانونی فریم ورک، علاقائی استحکام کا ذریعہ اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کا امتحان بھی ہے۔

نائب وزیراعظم نے بھارت کی جانب سے اپریل 2025 میں سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ’’معلق‘‘ رکھنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے میں ایسی یکطرفہ کارروائی کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت پاکستان کو مختص پانی سے محروم کرنے کی کسی بھی کوشش کے خطے کے امن و سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

اسحاق ڈار نے پاکستان اور بھارت کے درمیان تکنیکی رابطوں، شفافیت اور پانی سے متعلق اعداد و شمار کے تبادلے کو معاہدے کے مطابق بحال اور مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پانی سے متعلق سوالات، اختلافات اور تنازعات کے حل کے لیے سندھ طاس معاہدے میں موجود طے شدہ طریقہ کار کو مکمل طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔

پاکستان کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ ملک کا نقطہ نظر یکطرفہ اقدامات کے بجائے قانون، محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات اور دباؤ کے بجائے تعاون پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا نظام پاکستان کی آبادی، زراعت، غذائی تحفظ، توانائی، روزگار اور معاشی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے آبی تحفظ براہِ راست ملکی معاشی، غذائی اور قومی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔

واشنگٹن میں ہونے والے پالیسی ڈائیلاگ کے دوران تین اہم نشستیں بھی منعقد ہوئیں جن میں سندھ طاس معاہدے کی قانونی بنیاد، تنازعات کے حل کے طریقہ کار، موسمیاتی تبدیلی اور پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کے چیلنجز، جبکہ علاقائی امن و استحکام میں آبی سفارت کاری کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔

ماہرین نے سندھ طاس معاہدے کو پاکستان اور بھارت کے درمیان وسیع تر سیاسی کشیدگی کے باوجود پانی کے تعاون کو برقرار رکھنے والے ایک مؤثر تنازع انتظامی نظام کے طور پر بھی اجاگر کیا۔ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافے اور پانی کے وسائل پر بڑھتے دباؤ کے دور میں آبی سفارت کاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

شرکا کے مطابق مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی مسابقت یا دباؤ کے آلے میں تبدیل کرنا علاقائی استحکام پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔ اس کے بجائے موجودہ ادارہ جاتی نظام، معاہدے کی ذمہ داریوں اور اختلافات کے پُرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانا زیادہ مؤثر راستہ ہے۔

پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے گفتگو کے اختتام پر پاکستان کے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے متن میں کوئی بحران نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد کی نیت کا بحران ہے۔ ان کے مطابق موجودہ معاہدہ فریقین کے درمیان رابطے اور تنازعات کے حل کے لیے ضروری طریقہ کار فراہم کرتا ہے، تاہم اس کے مؤثر استعمال کے لیے مسلسل رابطے اور سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔

پالیسی ڈائیلاگ کا اختتام اس اتفاقِ رائے کے ساتھ ہوا کہ سندھ طاس معاہدے کے فریم ورک کا احترام، مسلسل مذاکرات اور علاقائی سطح پر رابطوں کا تسلسل جنوبی ایشیا میں آبی تنازعات کو مزید پیچیدہ ہونے سے روکنے کے لیے ضروری ہے۔ پاکستان نے اس موقع پر عالمی برادری کو واضح پیغام دیا کہ وہ عالمی قانون، پُرامن تنازعات کے حل، تعمیری سفارت کاری اور ذمہ دارانہ آبی تعاون کے اصولوں پر قائم ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.