تازہ ترین

نیپال اور چین میں تباہ کن سیلاب، لاپتا افراد کی تعداد 3 ہزار کے قریب پہنچ گئی

0

بیڈور: نیپال اور چین کے ہمالیائی خطے میں تباہ کن سیلاب اور ملبے کے طوفانی ریلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، ہزاروں افراد تاحال لاپتا ہیں جبکہ دونوں ممالک میں اب تک 633 لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں۔ امدادی ٹیمیں شدید مشکلات کے باوجود ملبے اور کیچڑ میں پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بدھ کے روز تبت اور نیپال کی سرحد کے قریب آنے والے شدید سیلاب نے کئی آبادیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سیلاب اپنے ساتھ برف، کیچڑ اور ملبے کا ایک وسیع ریلا لایا جس نے دریا کے اطراف موجود کئی بستیاں اور بنیادی ڈھانچے تباہ کردیے۔

نیپال اور چین کے اعداد و شمار کے مطابق لاپتا افراد کی مجموعی تعداد تقریباً 3 ہزار تک پہنچ گئی ہے، جبکہ خدشہ ہے کہ بعض افراد سیلابی پانی میں بہہ کر بھارت تک پہنچنے والے دریاؤں میں بھی جاچکے ہیں۔

امدادی کارکنوں کو ریسکیو کارروائیوں کے دوران شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ نیپال اسکاؤٹ ڈیزاسٹر رسپانس ٹیم سے وابستہ ایک امدادی کارکن نے بتایا کہ موٹی کیچڑ میں چلنا بھی انتہائی مشکل ہے اور اہلکار طویل شفٹوں کے باوجود لاپتا افراد کے اہل خانہ کو ان کے پیاروں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق بدھ کو تبت اور نیپال کی سرحد پر پیش آنے والی تباہی ایک گلیشیئر کے ٹوٹنے سے پیدا ہونے والے شدید ملبے کے ریلے کے نتیجے میں ہوئی۔ ماہرین کے مطابق گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے دنیا بھر میں اس نوعیت کے قدرتی حادثات کے خطرات بڑھ رہے ہیں، تاہم موجودہ واقعے میں گلیشیئر کے ٹوٹنے کی حتمی وجہ ابھی واضح نہیں ہوسکی۔

نیپال کے نواکوٹ ضلع میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ مقامی افراد کے مطابق دریا کے قریب موجود متعدد آبادیاں مکمل طور پر بہہ گئیں اور کئی مقامات پر تباہی کے بعد کچھ باقی نہیں بچا۔

بیڈور کے فوجی اڈے کو ریسکیو سرگرمیوں کا اہم مرکز بنایا گیا ہے، جہاں لاپتا افراد کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی تلاش میں موجود ہیں۔ متعدد خاندان امدادی فہرستوں میں اپنے رشتہ داروں کے نام تلاش کررہے ہیں۔

نیپال کی ڈیزاسٹر اتھارٹی کے مطابق لاپتا افراد میں توانائی کے منصوبوں سے وابستہ 933 ہائیڈرو پاور ورکرز بھی شامل ہیں، جبکہ لاپتا غیر ملکیوں میں ٹریکرز اور تبت کے مقدس مقام ماؤنٹ کیلاش جانے والے ہندو یاتری بھی شامل ہیں۔

ریڈ کراس کے مطابق اس قدرتی آفت سے تقریباً 93 ہزار افراد متاثر ہوسکتے ہیں جبکہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ موجود ہے۔

نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر خانال نے کہا ہے کہ تباہ کن سیلاب کے بعد ملک میں تعمیر نو کے اخراجات اربوں ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے زیادہ توجہ ریسکیو اور انسانی جانیں بچانے پر مرکوز ہے۔

انہوں نے بین الاقوامی سطح پر خصوصی امداد کی اپیل کرتے ہوئے بھاری وزن اٹھانے والے ڈرونز اور لاپتا افراد کی تلاش میں مدد دینے والی جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے لاشوں کی شناخت کے لیے فرانزک کٹس اور انہیں محفوظ رکھنے کے لیے فریزر یونٹس کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

دریں اثنا برف، کیچڑ اور ملبے کے باعث کئی مقامات پر بڑے پیمانے پر پانی جمع ہوگیا ہے، جس سے مزید سیلاب کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ ان میں سے بعض جھیل نما ذخائر کے پھٹنے سے دوبارہ تباہ کن سیلاب آسکتا ہے۔

تبت میں چینی حکام نے شدید متاثرہ علاقے گیئرونگ میں مزید سیلاب کے خطرے کے باعث ریسکیو سرگرمیاں عارضی طور پر روک دی ہیں۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق تبت میں 7 افراد ہلاک جبکہ 554 افراد لاپتا ہیں۔

چینی حکام نے تبت سے 555 پھنسے ہوئے سیاحوں اور 499 چینی شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔

نیپال میں فوجی اہلکار ان تقریباً 100 افراد تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں جو مختلف سرنگوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان میں تریشولی تھری اے اور تھری بی ہائیڈرو پاور منصوبوں سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں۔

نیپالی حکام کے مطابق سرنگوں کے داخلی راستوں سے کیچڑ اور ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے جبکہ بھارت کی خصوصی ٹنل ریسکیو ٹیم بھی امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے پہنچ گئی ہے۔

نیپال میں ہفتے کے روز جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق سیلاب اور متعلقہ واقعات میں 626 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 2 ہزار 426 افراد تاحال رابطے میں نہیں ہیں۔

دوسری جانب بھارت میں حکام نے نیپال سے آنے والے دریاؤں سے 7 لاشیں برآمد کی ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ سیلاب میں بہہ جانے والے افراد کی ہیں۔

سیلاب کے کئی روز گزرنے کے بعد بھی امدادی ٹیمیں ملبے اور کیچڑ میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہیں، تاہم لاپتا افراد کے اہل خانہ کے لیے انتظار مزید اذیت ناک ہوتا جارہا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.