کوئٹہ: بلوچستان کی سیاست میں صوبوں کی تشکیل اور موجودہ سیاسی نظام کے حوالے سے بحث ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے۔ سینئر سیاستدان اور سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے پارلیمانی نظام پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ نظام کی ناکامی کے باعث انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تشکیل کی باتیں کی جا رہی ہیں، تاہم بلوچ، پشتون اور سندھی عوام قومی وحدتوں کی تقسیم کو قبول نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی صوبوں کے اندر نئی سیاسی جماعتیں بنتی رہی ہیں، جس کے نتیجے میں صوبے کے لوگ اسی طرح منتشر رہے۔ نئی جماعتیں بھی بنتی رہیں گی، جبکہ نام نہاد اور ٹھیکیداری سیاست جاری رہنے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق اگر عوام ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندوں کا احتساب نہیں کریں گے تو سیاسی حالات بہتر نہیں ہوں گے۔
لشکری رئیسانی نے کہا کہ پاکستان کثیرالقومی ملک ہے اور ہم اپنی سرزمین پر صدیوں سے آباد ہیں۔ ہمارا تشخص، شناخت اور ثقافت ہے، جس کا ہم دفاع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزراء اندرونی سیاسی عمل کے بجائے داری کی بات کرتے ہیں، جبکہ صوبوں کی تقسیم کے حوالے سے ان کا مؤقف واضح ہے کہ بلوچ، پشتون اور سندھی صوبوں کی تقسیم کو قبول نہیں کریں گے بلکہ اس سے ملک میں مزید بحران پیدا ہوں گے اور اپنی قومی و جغرافیائی شناخت ختم ہونے نہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک عوام کے ووٹ کے ذریعے احتساب اور انتخابات نہیں ہوں گے، ملک کے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ نئی سیاسی جماعتیں سامنے آ رہی ہیں اور یہ حیران کن بات نہیں، کیونکہ صوبے کے لوگ پہلے بھی اسی طرح سیاسی جماعتیں بناتے رہے ہیں اور آئندہ بھی بنائیں گے۔
سینئر سیاستدان نے کہا کہ سردیوں کے لوگوں سے اپیل ہے کہ وہ قومی مفاد پر قربانیاں دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیرِاعلیٰ عوام کے منتخب کردہ نمائندے نہیں بلکہ ہوٹل پر ایکٹ کے ذریعے مسلط کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب لندن میں چارٹر ڈیموکریسی طے پایا تو اس میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ سیاسی پارٹیاں سہولت کار کا کردار ادا نہیں کریں گی اور 1973 کے آئین کو اس کی اصل حالت میں بحال کیا جائے گا، لیکن جب اٹھارویں ترمیم کے تحت ملک کے لوگوں کا فیصلہ ہوا تھا۔
اسی دوران ایک وقت میں ایک پینشن کی کھڑکی اور ایک کڑکی شادی کو سوشل میڈیا پر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنایا جا رہا تھا۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت نواب محمد اسلم خان رئیسانی نے محکمہ خزانہ کو وزیراعلیٰ کو بلوچستان کی طرف سے حق ملے، این ایف سی ایوارڈ کے ساتھ ساتھ صوبوں کے وسائل کو بھی لوٹا جا رہا ہے۔ اس کے لیے قومی اکائیوں کو توڑنا عوام اور پارلیمنٹ کے آئینی اختیار کو ختم کرنے کی کوشش ہے، جبکہ سیاسی جماعتیں بھی سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہیں۔
پشتون قومی جرگے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم نے خیبر سگالی کا پیغام بھی بھیجا اور دعا بھی ہے کہ یہ پشتون قوم کے مفاد میں ہو۔ اس سے قبل زیادہ مرتبہ دھرنے میں بھی میں نے جرگہ بلانے کا اعلان کیا تھا۔ جب پشتون قومی جرگہ بلایا گیا تو میں نہیں چاہتا تھا کہ ایک نئی بحث چھیڑ جائے، اس لیے پیچھے ہٹ گیا تاکہ پشتون قومی جرگہ کوئی نتیجہ نکالے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں آج تک لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا گیا ہے، تاہم اب منصوبہ ہے کہ بلوچستان میں لوگوں کو نقل مکانی کرانے کے انسانی المیے اور بحران پیدا کیے جائیں تاکہ قومی اختیار اور حقوق سے ہٹ جائے اور وہ اپنے قومی حقوق سے دستبردار ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک وقت میں پشتون قومی جرگے کے لوگوں نے بھی کہا تھا کہ ہمارے گھر پر پہلے بھی کئی مرتبہ حملے کرائے گئے ہیں۔ یہ ہمارا گناہ ہے کہ ہم اپنی قوموں اور قبائل کے سفید ریش ہیں۔ اس سوال پر انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف وقت میں پارلیمنٹ ہے اور قائد حزب اختلاف کے انسانی حقوق کمیشن کے ذریعے جیل کا دورہ کریں یا پارلیمان کی انسانی حقوق کی کمیٹی جسے اختیار ہے، وہ ان کے ساتھ جیل کا دورہ کرکے رپورٹ مرتب اور عمران خان سے ملاقات کریں۔