سعودی ولی عہد کی ٹرمپ سے رابطوں کے بعد امریکی کمانڈر سعودی عرب پہنچ گئے
یمن میں حوثیوں کی تیز رفتار پیش قدمی اور باب المندب پر کنٹرول کے دعوے کے بعد خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے، جس کے پیش نظر امریکی سینٹکام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر ہنگامی مشاورت کیلئے سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بحیرہ احمر کے علاقے میں حوثیوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے 6 اہم اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے جبکہ باب المندب کا کنٹرول سنبھالنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ اسی دوران سعودی عرب کو بھی حوثیوں کے حملوں کا سامنا ہے۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایڈمرل بریڈ کوپر کی سعودی عرب روانگی سے قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر متعدد مرتبہ رابطہ کیا۔ امریکی سینٹکام سربراہ کی سعودی حکام سے ملاقاتوں کا بنیادی مقصد حوثیوں کی اچانک پیش قدمی کے مقابل مشترکہ دفاعی حکمت عملی کو مضبوط بنانا اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی برقرار رکھنا ہے۔
ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد نے امریکی صدر سے بحیرہ احمر کی اہم تجارتی گزرگاہ کے تحفظ کیلئے حوثیوں کے خلاف امریکی فوج کے براہ راست فضائی حملوں کی درخواست بھی کی تھی، تاہم صدر ٹرمپ نے فی الحال یہ درخواست مسترد کردی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ براہ راست جنگ کے مزید پھیلاؤ سے بچنا چاہتا ہے۔
براہ راست امریکی حملوں سے انکار کے باوجود امریکا نے سعودی عرب کو مکمل انٹیلی جنس معلومات اور اہداف کی نشاندہی میں معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حوثیوں کے خلاف جنگ میں مدد کیلئے تقریباً 100 سے 200 امریکی فوجی مشیر پہلے ہی سعودی عرب کے مشترکہ کمانڈ مرکز میں کام کررہے ہیں، جہاں وہ میدانِ جنگ کی براہ راست نگرانی اور جغرافیائی معلومات کی فراہمی میں معاونت کررہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد حوثیوں نے گزشتہ چند ماہ کے دوران باب المندب میں سعودی بحری جہازوں کی آمدورفت کو محدود کرنے کیلئے کارروائیاں تیز کردی ہیں اور سعودی عرب آنے اور جانے والے بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔
یمن میں سعودی اتحادی افواج اور حوثیوں کے درمیان جنگ 2014 سے جاری ہے۔ حوثیوں نے ملک کے بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے اور حالیہ پیش قدمی کے بعد باب المندب تک پہنچنے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے اہم بحری تجارتی راستے کی سلامتی پر بھی خدشات بڑھ گئے ہیں۔