شی جنپنگ کی ٹرمپ سے ملاقات،چینی صدر کا ایران امریکا کشیدگی ختم کرنے اور مذاکرات بحال کرنے کا مطالبہ
واشنگٹن: امریکا اور چین کی قیادت کے درمیان اہم ملاقات میں ایران امریکا کشیدگی، تائیوان، تجارت اور دوطرفہ تعلقات سمیت عالمی امور زیرِ بحث آئے، چینی صدر شی جنپنگ نے ایران اور امریکا پر زور دیا کہ وہ کشیدگی ختم کرکے مذاکرات کی طرف واپس آئیں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو دوبارہ فعال کریں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جنپنگ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے تعلقات کے ساتھ عالمی اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران شی جنپنگ نے کہا کہ چین ایران اور امریکا کے درمیان مسائل کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی حوصلہ افزائی کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہا ہے۔
چینی صدر نے امریکا اور ایران پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آئیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو مذاکرات کے ذریعے جوہری معاملے سمیت دیگر اختلافات پر ایک جامع معاہدے تک پہنچنے اور خطے میں امن قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت جون 2026 میں پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے عبوری فریم ورک کا حصہ ہے۔ پاکستان نے اس عمل میں رابطہ کاری اور ثالثی کا کردار ادا کیا تھا، جبکہ چین نے بھی اس مفاہمتی عمل کی حمایت کی ہے۔
شی جنپنگ نے تائیوان کے معاملے پر بھی چین کا مؤقف واضح کرتے ہوئے امریکا سے ’’تائیوان کی آزادی‘‘ کی مخالفت کرنے اور اس معاملے کو احتیاط سے سنبھالنے پر زور دیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر سے ملاقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت خوشگوار ماحول میں ہوئی اور اس کے مثبت نتائج سامنے آنے کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کو کم کرنے اور تعاون بڑھانے کے لیے بات چیت جاری رہنی چاہیے۔
شی جنپنگ نے امریکا اور چین کے تعلقات کے حوالے سے کہا کہ دونوں بڑی طاقتوں کو اختلافات کے باوجود پرامن بقائے باہمی، تعاون اور مسلسل رابطے کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مسابقت کو تنازع میں تبدیل ہونے سے روکنا ضروری ہے۔
چینی صدر نے آئندہ پانچ برسوں کے دوران ایک لاکھ امریکی نوجوانوں کو تعلیمی اور ثقافتی تبادلے کے پروگراموں کے تحت چین آنے کی دعوت دینے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کا مستقبل عوام اور بالخصوص نوجوان نسل سے جڑا ہے۔
شی جنپنگ نے امریکا اور چین کے درمیان دوستی کی علامت کے طور پر اٹلانٹا کے چڑیا گھر کے لیے دو پانڈاز بھی بھیجنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے پانڈا کو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستی کا سفیر قرار دیا۔
شی جنپنگ 23 ستمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر واشنگٹن پہنچے تھے، جہاں ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے ان کا استقبال کیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ دورہ 24 ستمبر کو باقاعدہ ریاستی تقریب اور ملاقاتوں کے ساتھ جاری رہا، جبکہ شی جنپنگ کا امریکی دورہ 25 ستمبر تک مقرر تھا۔
چینی صدر نے وائٹ ہاؤس میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ امریکا اور چین کو اختلافات کے باوجود تصادم سے بچنے، مذاکرات جاری رکھنے اور تعاون کے دائرے کو وسیع کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان فوجی رابطوں اور بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مواصلاتی نظام بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔