تازہ ترین

آبادی کے تناسب کو مدنظر رکھ کر آسامیوں کی تقسیم کی نئی پالیسی بنانے پر غور

0

کوئٹہ: بلوچستان میں نئے ڈویژنز اور اضلاع کے قیام کے بعد سرکاری آسامیوں کی تقسیم کے نظام کو موجودہ انتظامی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے 1991 کی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب نوشیروانی کی زیرِ صدارت اجلاس میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے تناظر میں سرکاری آسامیوں کی تقسیم سے متعلق موجودہ پالیسی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں سیکرٹری قانون پرویز نوشیروانی، اسپیشل سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی حبیب الرحمن کاکڑ اور محکمہ خزانہ کے تکنیکی نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے شرکا کو نئے اضلاع اور ڈویژنز کے قیام کے بعد موجودہ انتظامی ڈھانچے اور سرکاری آسامیوں کی تقسیم کی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں اس امر پر غور کیا گیا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے بعد موجودہ آسامیوں کی تقسیم کی پالیسی کس حد تک موجودہ ضروریات سے مطابقت رکھتی ہے اور ضرورت کے مطابق اس میں کن ترامیم کی گنجائش موجود ہے۔

صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ سرکاری آسامیوں کی تقسیم کے لیے ایسی بنیادی پالیسی وضع کی جانی چاہیے جس میں شفافیت، میرٹ اور آبادی کے تناسب کو مناسب اہمیت حاصل ہو۔

انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے بعد سرکاری محکموں اور آسامیوں کی ضروریات میں بھی تبدیلی آتی ہے، اس لیے پالیسی کا موجودہ انتظامی صورتحال کے مطابق ہونا ضروری ہے۔

میر شعیب نوشیروانی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ 1991 کی پالیسی پر نظرثانی کا عمل مؤثر اور بروقت مکمل کیا جائے تاکہ نئے اضلاع اور ڈویژنز میں سرکاری آسامیوں کی تقسیم کے حوالے سے واضح اور قابلِ عمل طریقہ کار وضع کیا جاسکے۔

اجلاس میں پالیسی پر مزید مشاورت اور متعلقہ محکموں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارشات مرتب کرنے پر بھی غور کیا گیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.