تازہ ترین

نیتن یاہو نے جنرل اسمبلی میں ’پیجر‘ اور ’اسٹارلنک‘ ڈیوائس کیوں لہرائی؟

0

نیویارک: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران روایتی تقریر سے ہٹ کر دو مختلف ٹیکنالوجی ڈیوائسز بھی شرکا کے سامنے پیش کیں۔ انہوں نے ایک پیجر لہرا کر حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کا حوالہ دیا جبکہ اسٹارلنک ڈیوائس کے ذریعے ایرانی عوام کو انٹرنیٹ اور آزادی اظہار سے متعلق پیغام دیا۔

نیتن یاہو نے تقریر کے دوران ہاتھ میں ایک پیجر اٹھاتے ہوئے شرکا کو ستمبر 2024 میں لبنان میں ہونے والے پیجر دھماکوں کی یاد دلائی۔ انہوں نے اس ڈیوائس کو حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں سے جوڑتے ہوئے اپنی حکومت کے اقدامات کا دفاع کیا۔

ستمبر 2024 میں لبنان میں حزب اللہ سے منسلک افراد کے زیر استعمال ہزاروں پیجرز اور بعد ازاں دیگر مواصلاتی آلات میں دھماکے ہوئے تھے، جن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ ان واقعات نے عالمی سطح پر بھی خاصی توجہ حاصل کی تھی۔

نیتن یاہو نے پیجر لہراتے ہوئے حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو اپنی فوجی مہم کا حصہ قرار دیا اور تنظیم کے اعلیٰ رہنماؤں کے خلاف کیے گئے اقدامات کا دفاع کیا۔ ان کا یہ انداز اسرائیل کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور اس کی جنگی افادیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کے طور پر سامنے آیا۔

اسرائیلی وزیراعظم نے اس موقع پر حزب اللہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور پیجر کو ایک علامتی انداز میں استعمال کرتے ہوئے تنظیم کے خلاف اپنے مؤقف کا اعادہ کیا۔

تقریر کے دوران نیتن یاہو نے ایک اسٹارلنک مواصلاتی ڈیوائس بھی ہاتھ میں اٹھائی۔ انہوں نے اسے ایرانی عوام سے مخاطب ہونے کے لیے استعمال کیا اور کہا کہ یہ ٹیکنالوجی انٹرنیٹ تک رسائی، آزادانہ خیالات کے اظہار اور سوشل میڈیا کے استعمال میں مدد دے سکتی ہے۔

نیتن یاہو نے ایرانی حکومت پر اپنے شہریوں کی آزادی اظہار محدود کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام اس طرح کی ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا سے رابطہ برقرار رکھ سکتے ہیں۔

انہوں نے اسٹارلنک ڈیوائس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کے پاس چھوڑنے کی بات بھی کی تاکہ ان کے بقول مستقبل میں ایران سے منحرف ہونے والے افراد اسے استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنی بات آزادانہ طور پر بیان کرسکیں۔

نیتن یاہو کے اس اقدام کو ان کی تقریر کے دوران ایران کے خلاف دیے گئے وسیع تر پیغام کا حصہ سمجھا گیا، جس میں انہوں نے ایرانی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ایرانی عوام کو مخاطب کیا اور ملک میں آزادی اظہار اور انٹرنیٹ تک رسائی کا معاملہ اٹھایا۔

یوں جنرل اسمبلی سے نیتن یاہو کی تقریر میں پیجر اور اسٹارلنک ڈیوائس دونوں محض اشیا کے طور پر نہیں بلکہ حزب اللہ اور ایران کے بارے میں اسرائیلی وزیراعظم کے سیاسی اور عسکری مؤقف کی علامت کے طور پر سامنے آئے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.