تازہ ترین

آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ٹیکس وصولی بڑھانے اور رعایتیں ختم کرنے کا فیصلہ

0

اسلام آباد: پاکستان نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالیاتی نظم و ضبط مزید سخت کرنے، ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اور سرکاری اداروں کے نقصانات محدود کرنے کے لیے اصلاحات جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جبکہ وزارت خزانہ کے مطابق پروگرام کے بیشتر شعبوں میں پیش رفت ہوئی تاہم گردشی قرض سمیت بعض اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں کیے جاسکے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں آئی ایم ایف پروگرام، ٹیکس اصلاحات اور دیگر اہم مالیاتی امور کا جائزہ لیا گیا۔

سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تین جائزے مکمل ہوچکے ہیں اور پروگرام کے نتیجے میں پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر بہتر بنانے، قرضوں کی ادائیگی اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں کمی کے حوالے سے مدد ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے سرکاری اداروں کے نقصانات میں کمی کے لیے اہداف مقرر کیے تھے اور حکومت نے ان اہداف کے حصول کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ ٹیکس اصلاحات میں بھی پیش رفت ہوئی ہے جبکہ ٹیکس وصولیوں میں مزید اضافے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

سیکریٹری خزانہ کے مطابق ٹیکس رعایتوں میں کمی اور اضافی اخراجات کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ سپلیمنٹری گرانٹس کے اجرا پر بھی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں تاکہ مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھا جاسکے۔

انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط پر مجموعی طور پر عملدرآمد بہتر رہا ہے، تاہم بعض اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہوسکے۔ ان میں گردشی قرض بھی شامل ہے، جسے حکومت مقررہ حدود کے اندر رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔

آئی ایم ایف کی تازہ دستاویزات کے مطابق پاکستان کے پروگرام کا تیسرا جائزہ مئی 2026 میں مکمل ہوا تھا، جبکہ پروگرام کے اہم مقاصد میں زرمبادلہ ذخائر کی بحالی، ٹیکس بنیاد کو وسیع کرنا، سرکاری اداروں میں اصلاحات اور مالیاتی استحکام کو مضبوط بنانا شامل ہے۔

سیکریٹری خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اگلے جائزے کے لیے بات چیت کا عمل بھی شروع ہوچکا ہے۔ چوتھے جائزے میں مالیاتی کارکردگی، محصولات، توانائی کے شعبے اور پروگرام کے تحت طے شدہ دیگر اہداف کا جائزہ لیا جائے گا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ترسیلات زر سے متعلق سبسڈی ختم کیے جانے کے باوجود ترسیلات زر میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اخراجات کے مقررہ اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہوسکے۔

اجلاس میں سرکاری افسران کے اثاثوں کی تفصیلات ظاہر کرنے کے معاملے پر بھی بحث ہوئی۔ کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر نے کہا کہ افسران کے اثاثوں کی ڈکلیئریشن کے معاملے میں کافی رکاوٹیں سامنے آئی ہیں۔

اس پر سیکریٹری خزانہ نے بتایا کہ سرکاری افسران کے اثاثوں کی تفصیلات ظاہر کرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے جبکہ ایف بی آر اثاثوں سے متعلق بعض معلومات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو فراہم کرے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.