تازہ ترین

دنیا کو جمہوریتوں کی برادری یا مسلم برادرہڈ میں سے انتخاب کرنا ہوگا، نیتن یاہو

0

نیویارک: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں غزہ کی جنگ، ایران کے جوہری پروگرام، حماس اور اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید پر اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا دفاع کیا، جبکہ ایران، قطر، ترکیہ اور بعض مغربی ممالک کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

نیتن یاہو نے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور یہودی آبادکاروں سے متعلق عائد کیے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں نسل کشی کے الزام کو جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے غزہ میں شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے اور خوراک و ویکسین سمیت امدادی سامان کی فراہمی کی کوشش کی۔

اسرائیلی وزیراعظم نے یورپ کے بعض رہنماؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ آزادی کے دفاع سے خوفزدہ ہیں اور ان کے بقول یہود مخالف ہجوم کے دباؤ میں آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپ کو ’’جمہوریتوں کی برادری‘‘ اور ’’مسلم برادرہڈ‘‘ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

خطاب کے دوران نیتن یاہو نے اسٹارلنک کا ایک مواصلاتی آلہ بھی دکھایا اور کہا کہ اس کے ذریعے ایرانی عوام آزادانہ طور پر اپنے خیالات کا اظہار کرسکتے ہیں۔ انہوں نے ایران میں رواں سال ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب ایرانی حکومت نے احتجاج کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی تو اس وقت عالمی برادری کہاں تھی۔

نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت اپنے جھوٹ، بدعنوانی اور ظلم کے باعث بالآخر ختم ہوجائے گی اور ایرانی عوام کی طاقت اقتدار میں موجود لوگوں پر غالب آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا فیصلہ بطور وزیراعظم ان کے لیے آسان ترین فیصلوں میں سے ایک تھا۔ نیتن یاہو کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کو روک کر اسرائیل نے دنیا کو ایک بڑے خطرے سے بچایا، اور اگر اسرائیل نے یہ کارروائی نہ کی ہوتی تو صورتحال انتہائی سنگین ہوسکتی تھی۔

اسرائیلی وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے عرب اور مسلم ممالک کے وفود کے احتجاجاً واک آؤٹ پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے ان ممالک کا بھی دفاع کیا جو ان کی تقریر کے دوران ہال سے باہر چلے گئے، جبکہ بعض رہنماؤں نے نجی طور پر اسرائیلی اقدامات پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

غزہ میں اسرائیل پر نسل کشی کے الزامات کو نیتن یاہو نے ’’صدی کا سب سے بڑا جھوٹ‘‘ قرار دیا اور اسرائیل کی جانب سے شہریوں کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کا ذکر کیا۔ دوسری جانب انسانی امدادی ادارے غزہ میں امداد کی رسائی اور شہریوں کی صورتحال پر مسلسل تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ سمیت مختلف عالمی حلقے اسرائیلی پالیسیوں اور غزہ کی صورتحال پر تنقید کرچکے ہیں۔

نیتن یاہو نے نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پر اسرائیل مخالف مؤقف اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیویارک میں یہودی خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نے قطر پر اسرائیل کے خلاف جھوٹ پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ امریکی جامعات اور الجزیرہ جیسے میڈیا اداروں کی مالی معاونت کے ذریعے نوجوانوں کو اسرائیل، امریکا اور مغرب سے نفرت کی طرف مائل کررہا ہے۔

انہوں نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور مختلف علاقائی و داخلی معاملات پر ان کی پالیسیوں پر اعتراضات اٹھائے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ اردوان اسرائیل کی تباہی کی بات کرتے ہیں اور یروشلم پر حکمرانی کا دعویٰ کرتے ہیں، تاہم ان کے بقول یروشلم اسرائیل کا شہر ہے۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کے حوالے سے نیتن یاہو نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا چند شرپسند نوجوانوں کے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود ہجوم کے ذریعے قانون نافذ کرنے کے خلاف ہیں اور اسرائیلی داخلی سلامتی کے ادارے کو ایسے افراد کے خلاف کارروائی کی ہدایت کرچکے ہیں۔

نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت اور اسرائیل کے ساتھ امریکی شراکت داری کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے مل کر تہذیب کے تحفظ کے لیے کام کیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کو اسرائیل کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج نے گزشتہ تین برس کے دوران کئی محاذوں پر جنگ لڑی۔ انہوں نے حماس اور حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کے ساتھ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کے خلاف اقدامات کو بھی اسرائیل کی فوجی کامیابیوں میں شمار کیا۔

ایرانی بیلسٹک میزائلوں کا حوالہ دیتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ ایک ٹن وزنی میزائل اگر اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ پر گرے تو پوری عمارت تباہ ہوسکتی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی فوج کو دنیا کی سب سے زیادہ اخلاقی ضابطوں کی پاسداری کرنے والی فوج بھی قرار دیا۔

نیتن یاہو نے برطانیہ اور فرانس کی جانب سے اسرائیل پر نوآبادیاتی عزائم کے الزامات کو مسترد کیا اور دونوں ممالک کے نوآبادیاتی ماضی کا حوالہ دیا۔ شام کے صدر احمد الشرع کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے گولان کی پہاڑیوں سے متعلق اسرائیلی مؤقف بھی دہرایا اور اس علاقے سے متعلق تاریخی و مذہبی دعویٰ پیش کیا۔

اپنے بھائی یوناتان ’’یونی‘‘ نیتن یاہو کا ذکر کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے 1967 کی جنگ اور 1976 کے اینٹی بی طیارہ اغوا آپریشن کی یادیں بھی بیان کیں، جس میں ان کے بھائی اسرائیلی کمانڈو کارروائی کے دوران مارے گئے تھے۔

نیتن یاہو نے اپنے بھائی سے منسوب جملہ ’’ہم جیتیں گے، ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں‘‘ بھی دہرایا اور تقریر کے اختتام پر ایک مرتبہ پھر یہی الفاظ کہے، جس کے بعد انہیں حاضرین کی جانب سے تقریباً 30 سیکنڈ تک تالیاں ملتی رہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.