امریکی دباؤ کے باوجود روس کا ایران سے تجارت کیلئے کرپٹو کرنسی پر غور
روس نے مغربی پابندیوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان ایران سمیت دیگر ’دوست‘ ممالک کے ساتھ تجارت کے لیے متبادل ادائیگی کے ذرائع استعمال کرنے کا عندیہ دے دیا ہے، جس میں کرپٹو کرنسی بھی شامل ہوسکتی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک اور اداروں کو ثانوی پابندیوں کی دھمکی دی ہے۔
روسی وزارت خارجہ کے سفارت کار الیگزینڈر تروفیموف نے روسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس پر عائد پابندیوں کے تجربے نے یہ واضح کردیا ہے کہ ڈالر کو جغرافیائی سیاسی دباؤ کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جس کے باعث کئی ممالک ادائیگی کے متبادل طریقے تلاش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان متبادل ذرائع میں کرپٹو کرنسی کا استعمال بھی ممکن ہے۔ روسی سفارت کار کے مطابق مغربی دباؤ کے موجودہ ماحول میں دوست ممالک کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی روابط مضبوط کرنا ماسکو کی ترجیحات میں شامل ہے۔
تروفیموف نے کہا کہ ایسے ذرائع اور تعاون کے طریقے تلاش کرنا ضروری ہے جو مغربی مالیاتی نظام اور اس کے کنٹرول سے باہر ہوں۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
روسی مؤقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے ایران کی معیشت کو عالمی مالیاتی نظام سے مزید الگ تھلگ کرنے کے لیے نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت میں مدد دینے والے بینکوں، کمپنیوں یا ممالک کو امریکی مالیاتی نظام سے خارج کیے جانے سمیت ثانوی پابندیوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔
واشنگٹن نے حالیہ اقدامات میں ایران سے منسلک تقریباً 60 افراد، اداروں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ ڈیجیٹل اثاثوں، ٹیکنالوجی، سونے، ہوا بازی اور شپنگ سمیت مختلف شعبوں پر دباؤ بڑھایا گیا ہے۔
روس اور ایران پہلے ہی مغربی پابندیوں کے باعث روایتی مالیاتی نظام سے ہٹ کر تجارت اور ادائیگی کے متبادل طریقوں پر توجہ دے رہے ہیں۔ ایسے میں کرپٹو کرنسی کا ممکنہ استعمال دونوں ممالک کے لیے امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے کی ایک اور کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب چین بھی ایران کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور امریکا کی جانب سے ایرانی تجارت میں معاونت کرنے والے اداروں پر ممکنہ ثانوی پابندیوں کے باعث واشنگٹن اور اس کے بڑے تجارتی شراکت داروں کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔
یوں ایران پر امریکی معاشی دباؤ کے ساتھ روس کی جانب سے متبادل ادائیگی کے نظام کی حمایت عالمی تجارت میں ڈالر کے کردار اور مغربی مالیاتی پابندیوں کے اثرات سے متعلق نئی بحث کو جنم دے رہی ہے۔